All About Attock

All About Attock تاریخ،تاریخی مقامات، لوک ورثہ، ثقافت،زراعت،باغبانی،مویشی پالنا،کاروبار،اٹک کا ٹیلنٹ،غربت سے کامیابی تک کی کہانیاں،
(1)

11/06/2026

کسی بھی معاشرے کی مادی اور سماجی ترقی میں مواصلات یعنی سڑکوں کے نظام کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ سڑکیں صرف فاصلے ہی کم نہیں کرتیں بلکہ معیشت کا پہیہ چلاتی ہیں، ہسپتالوں تک رسائی آسان بناتی ہیں اور تعلیم کے دروازے کھولتی ہیں۔ لیکن جب انہی سڑکوں کی تعمیر میں کرپشن، نااہلی اور ناقص مٹیریل کا زہر گھول دیا جائے تو وہ ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے عوامی فنڈز کے ضیاع اور شہریوں کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہیں۔ ضلع اٹک میں بوٹا روڈ کی حالیہ تعمیرِ نو اس کی ایک بدترین اور زندہ مثال ہے۔

بوٹا روڈ پر سڑک بنانے کا جو طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے—جس میں تارکول کا فوارہ مار کر اس کے اوپر روایتی انداز میں ٹوکریوں سے بجری (کرش) بکھیر دی جاتی ہے—وہ جدید انجینئرنگ کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اسے تکنیکی زبان میں 'سرفیس ٹریٹمنٹ' یا عام زبان میں 'لکنگ ڈالنا' کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اب سے کئی دہائیاں پہلے متروک ہو چکا ہے۔ اس طریقے سے بنائی گئی سڑک پہلی ہی بارش یا چند مہینوں کی بھاری ٹریفک کے بعد اکھڑ جاتی ہے، بجری باہر نکل آتی ہے اور سڑک دوبارہ گڑھوں کا مزار بن جاتی ہے۔ یہ سڑک کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
اس صورتحال میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال ان مقامی رہنماؤں، چوہدریوں اور "کھڑپیچوں" پر اٹھتا ہے جو ہر گلی محلے میں لیڈری کا دعویٰ کرتے پھرتے ہیں۔ جب سڑک پر یہ ناقص کام ہو رہا ہے، تو یہ مقامی بااثر افراد کیوں خاموش ہیں؟ ان کا فرض ہے کہ وہ موقع پر کھڑے ہو کر ٹھیکیدار کا کام رکوائیں اور متعلقہ حکام سے احتجاج کریں ۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے دیہی اور نیم شہری علاقوں کے یہ کھڑپیچ یا تو ان ٹھیکیداروں کے ساتھ کمیشن کے چکر میں خود حصہ دار ہوتے ہیں، یا پھر وہ اپنے سیاسی آقاؤں (جن کے فنڈز سے یہ سڑک بن رہی ہوتی ہے) کو ناراض کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ ان کی یہ مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں عوامی مفاد سے زیادہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات عزیز ہیں۔

معاشرے کا دوسرا اور سب سے اہم ستون جس پر اس ناانصافی کے خلاف بولنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ ہماری صحافی برادری ہے۔ جمہوری نظام میں صحافت کو "ریاست کا چوتھا ستون" مانا گیا ہے۔ اس ستون کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کی خامیوں پر نظر رکھے، عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچائے اور طاقتور کا احتساب کرے۔ لیکن آج ضلع اٹک اور ملک کے دیگر حصوں میں مقامی سطح پر جو صحافت دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ انتہائی مایوس کن ہے۔
آج کی مقامی صحافت عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے بجائے "سیلفی کلچر" اور "شخصیت پرستی" کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک عام مشاہدہ ہے کہ سڑک پر مٹیریل ناقص ڈل رہا ہو تو صحافی کا کیمرہ وہاں نہیں جاتا، بلکہ وہ کسی ایم پی اے، ایم این اے یا مقامی وڈیرے کے ڈیرے پر جا کر اس کے ساتھ تصویریں کھنچوانے، اس کی چاپلوسی کرنے اور سوشل میڈیا پر فخر سے ان تصویروں کو شیئر کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ جب صحافی خود کو عوام کا وکیل سمجھنے کے بجائے کسی لیڈر کا مداح اور پی آر مینیجر بنا لے، تو صحافت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ صحافت اپنے پسندیدہ لیڈروں کے ساتھ کھڑے ہو کر فخر کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ان لیڈروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے ان کی کارکردگی کا حساب مانگنے کا نام ہے۔

جب تک صحافی برادری لفافے، ذاتی تعلقات اور مراعات کے چکر سے باہر نکل کر بوٹا روڈ جیسے منصوبوں پر تحقیقاتی رپورٹنگ نہیں کرے گی، تب تک بیوروکریسی اور ٹھیکیدار مل کر عوام کا پیسہ اسی طرح لوٹتے رہیں گے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ محکمہ ہائی وے اور ڈپٹی کمشنر اٹک کو کٹہرے میں لائیں اور ان سے پوچھیں کہ اس سڑک کے لیے کتنا بجٹ منظور ہوا تھا اور اس میں کون سا مٹیریل استعمال ہونا طے پایا تھا؟
آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اگر چوتھا ستون گر چکا ہے اور مقامی رہنما بک چکے ہیں، تو اب اصل طاقت خود عوام کے ہاتھ میں ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شہری خود ایک صحافی ہے۔ بوٹا روڈ کے ناقص کام کی ویڈیوز بنا کر اعلیٰ حکام تک پہنچانا، سوشل میڈیا پر مہم چلانا اور اس ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کرنا اب شہریوں کا فرض بن چکا ہے۔ جب تک عوام خود بیدار ہو کر اپنے ٹیکس کے پیسے کا حساب نہیں مانگے گی، تب تک یہ کرپٹ نظام اور سیلفی مارکہ صحافت اسی طرح چلتی رہے گی۔
میں سیلوٹ پیش کرتا
میاں ضیاء صاحب کو جو صحافت کا حق ادا کر رہے ہیں اور بغیر کسی لالچ کے اٹک اور گردو نواح کے مسائل کو مقدور بھر اجاگر کررہے ہیں

ضلع اٹک اور خطہ پوٹھوہار کی پہچان، ہماری روایتی اور ثقافتی کھیل "بیل دوڑ"  سچی مچی دن بہ دن زوال پذیر ہو رہی ہے۔ اس خوبص...
10/06/2026

ضلع اٹک اور خطہ پوٹھوہار کی پہچان، ہماری روایتی اور ثقافتی کھیل "بیل دوڑ" سچی مچی دن بہ دن زوال پذیر ہو رہی ہے۔ اس خوبصورت ثقافت کو ختم کرنے میں کسی ایک فریق کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، بلکہ اس کے پیچھے انتظامیہ، داندی حضرات اور عوام، تینوں کا کہیں نہ کہیں ہاتھ ہے۔
​آئیں اس کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں کہ کون کتنا ذمہ دار ہے:
​حکومتی یا انتظامی سطح پر ہماری دیسی کھیلوں اور ثقافت کو بچانے کے لیے کوئی مستقل پالیسی یا فنڈز موجود نہیں ہیں۔
​اکثر سیکیورٹی یا دیگر وجوہات کی بنا پر بیل دوڑوں کی اجازت نہیں ملتی۔ داندی حضرات اور منتظمین کو این او سی اور پرمیشن کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بیلوں کو تیار کرنا، ان کی شاہانہ خوراک (دیسی گھی، مکھن، بادام، دودھ) اور سانبھ سنبھال اب لاکھوں روپے کا کھیل بن چکا ہے۔ عام زمیندار کے لیے اب یہ شوق برقرار رکھنا مالی طور پر بہت مشکل ہو گیا ہے۔
​ کچھ جگہوں پر یہ روایتی کھیل اب محض شوق نہیں رہا بلکہ ضد اور انا کا مسئلہ بن گیا ہے۔ بعض اوقات میلوں میں شرطیں (جوا) اور لڑائی جھگڑے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جس کی وجہ سے شریف لوگ اور پرانے شوقین ان میدانوں سے دور ہو رہے ہیں۔

​ہماری نئی نسل اب پنڈ کی مٹی، بیلوں کی گھنٹیوں اور کُراہ کے میدانوں کی رونق کے بجائے موبائل، گیمز اور سوشل میڈیا کی دنیا میں مگن ہو چکی ہے۔ انہیں اپنی دیسی ثقافت کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔
​شوق کی کمی: اب عوام میں بھی وہ پہلے جیسا جوش و خروش نظر نہیں آتا جو روایتی میلوں کا حسن ہوا کرتا تھا۔

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو سب سے بڑی ذمہ داری ہماری اپنی (زمینداروں اور عوام کی) بنتی ہے۔ اگر ہم اپنی ثقافت سے خود پیار نہیں کریں گے، اپنی نئی نسل کو اس شوق سے روشناس نہیں کروائیں گے اور انتظامیہ کے سامنے متحد ہو کر آواز نہیں اٹھائیں گے، تو یہ تاریخی ورثہ آہستہ آہستہ تاریخ کے صفحات میں ہی گم ہو جائے گا۔
​آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
ایڈمن ٹیم All About Attock

10/06/2026

ہائے عوام
لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے🥹

10/06/2026
الرٹ 👇ڈھرنال اور ملحقہ کئ آبادیوں میں لمپی سکن کی وباء پھوٹ پڑی ہے۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق ایک جانور ضائع ہوگیا ہے،اور ...
09/06/2026

الرٹ 👇

ڈھرنال اور ملحقہ کئ آبادیوں میں لمپی سکن کی وباء پھوٹ پڑی ہے۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق ایک جانور ضائع ہوگیا ہے،اور درجنوں شدید بیماری کی لپیٹ میں ہے۔
فارمر حضرات فورآ اپنے جانوروں کی ویکسین یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جاسکے۔

اللہ پاک ہر مسلمان کے جان مال کی حفاظت فرمائے

آمین۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاِ پاک ہے:"اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، تو اگر وہ اس کو لگانے کی است...
09/06/2026

نبی کریم ﷺ کا ارشاِ پاک ہے:

"اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، تو اگر وہ اس کو لگانے کی استطاعت رکھتا ہو، تو اسے ضرور لگائے۔"
(بخاری ومسند احمد)

جب کائنات کی تخلیق ہوئی، تو قدرت نے اس زمین کو رنگ برنگے پھولوں، گھنے جنگلات اور ہرے بھرے درختوں کے خوبصورت لبادے سے نوازا۔ یہ سبزہ صرف زمین کی خوبصورتی کا باعث نہیں ہے، بلکہ یہ اس سیارے پر زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ ایک درخت محض مٹی سے اگنے والا لکڑی کا ڈھانچہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنے اندر زندگی کا ایک پورا نظام، ایک پوری کائنات اور بے شمار جانداروں کی سانسیں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ اپنی بقا اور ترقی کے لیے درختوں اور جنگلات کا سہارا لیا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جیسے جیسے انسان مادی ترقی کی منازل طے کرتا گیا، وہ اس محسن کو بھول گیا جس نے اسے پناہ دی، خوراک دی اور سانس لینے کے لیے صاف ہوا فراہم کی۔ آج جنگلات کی بے دریغ کٹائی ایک ایسا عالمی مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف ماحولیات کو تباہ کر رہی ہے، بلکہ لاکھوں معصوم جانداروں سے ان کا حقِ زیست بھی چھین رہی ہے۔
بندروں، گلہریوں، چیتے، ریچھ اور دیگر بے شمار جانوروں کے لیے جنگل ان کا اکلوتا گھر ہے۔ گلہری درخت کے تنے میں اپنا گھر بناتی ہے، بندر ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگ لگا کر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ درخت ان جانداروں کو شکاریوں سے چھپنے کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔ جنگل کی کٹائی ان جانوروں کو کھلے میدانوں اور انسانی بستیوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جہاں وہ یا تو انسانوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں یا گاڑیوں کے نیچے آ کر جان دے دیتے ہیں۔
پرندے کائنات کا وہ خوبصورت عنصر ہیں جو اپنی چہچہاہٹ سے صبح کا استقبال کرتے ہیں۔ ان پرندوں کے لیے ایک درخت صرف بیٹھنے کی جگہ نہیں، بلکہ ان کا خاندانی نظام ہے۔ وہ درخت کی شاخوں پر تنکا تنکا جوڑ کر اپنا گھونسلا بناتے ہیں، جہاں وہ اپنے انڈوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو اڑنا سکھاتے ہیں۔ جب ایک درخت کاٹا جاتا ہے، تو صرف لکڑی زمین پر نہیں گرتی، بلکہ کئی معصوم پرندوں کے آشیانے خاک میں مل جاتے ہیں، ان کے بچے بے گراں ہو جاتے ہیں اور ان کی نسلیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

ایک درخت کی چھال اس کے پتے اور اس کی جڑیں کروڑوں کیڑوں مکوڑوں، چیونٹیوں، مکڑیوں اور خوردبینی جاندروں کا مسکن ہوتی ہیں۔ یہ حشرات بظاہر چھوٹے نظر آتے ہیں، لیکن یہ مٹی کو زرخیز بنانے اور ماحول کو صاف رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ درخت ان کے لیے خوراک کا ذخیرہ بھی ہے اور زندگی گزارنے کی جگہ بھی۔
سائنسدان جنگلات کو "زمین کے پھیپھڑے" کہتے ہیں۔ جس طرح انسان پھیپھڑوں کے بغیر سانس نہیں لے سکتا، اسی طرح زمین جنگلات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔
آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ یعنی گلوبل وارمنگ ہے۔ کارخانوں، گاڑیوں اور صنعتی ترقی کی وجہ سے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ درخت اس زہریلی گیس کو جذب کرتے ہیں اور بدلے میں آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ جب درخت ہی نہیں رہیں گے، تو یہ زہریلی گیسیں زمین کے گرد ایک غلاف بنا لیں گی، جس سے درجہ حرارت بڑھے گا، گلیشیئرز پگھلیں گے اور سیلاب آئیں گے۔

اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ یہ زمین صرف انسانوں کی جاگیر نہیں ہے، بلکہ اس پر ہر اس جاندار کا برابر کا حق ہے جسے خدا نے پیدا کیا ہے۔ اگر ہم نے اپنی سستی اور لالچ کی وجہ سے درختوں کو کاٹنا جاری رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب یہ خوبصورت سیارہ ایک تپتا ہوا صحرا بن جائے گا جہاں سانس لینا بھی محال ہوگا۔

عجیب سی منطق ہےپی پی پی اور ن لیگ کے سربراہان خوش گپیاں لگاتے حکومت انجواے کر رہے ہیں لیکن انہی پارٹیوں کے دو لیڈر این ا...
09/06/2026

عجیب سی منطق ہے
پی پی پی اور ن لیگ کے سربراہان خوش گپیاں لگاتے حکومت انجواے کر رہے ہیں لیکن انہی پارٹیوں کے دو لیڈر این اے 50 اٹک میں اکھٹے لکڑمار نادرا آفس کا افتتاح کرنا گوارہ نہیں کرتے۔۔۔
یاد رہے یہ سنٹر 15 اپریل سے ہر لحاظ سے تیار ہے عوامی سہولت کے لیے پھر بھی یہاں کے باسی بوڑھے بزرگ بچے گرمی کے موسم میں ہزاروں روپے خرچ کرکے شناختی دستاویزات بنانے 100 کلومیٹر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
عمر خطاب خٹک

کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کا دل کرتا ہے کہ وہ بس خاموش ہو جائے، کیونکہ وہاں لفظ بولیں تو ماحول کا سحر ...
09/06/2026

کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کا دل کرتا ہے کہ وہ بس خاموش ہو جائے، کیونکہ وہاں لفظ بولیں تو ماحول کا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ تصویر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہاں خوبصورتی صرف اس سبزے میں نہیں ہے جو پہاڑ پر بچھا ہوا ہے، بلکہ اس 'خاموشی' میں ہے جو اس پورے جنگل پر طاری ہے

اٹک کی کنجور ریلوے ٹنل اور اس کا ارد گرد کا سرسبز و شاداب منظر پاکستان کی ریلوے تاریخ اور قدرتی حسن کا ایک شاہکار ہے۔

انیسویں صدی کے آخر میں، جب جدید ترین مشینری اور ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی، اس وقت سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر اور پہاڑوں کے سینے کو چیر کر ایسی پائیدار سرنگیں بنانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ اس دور کے انجینئرز اور مقامی مزدوروں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ یہ ٹنل آج بھی اتنی ہی مضبوطی سے قائم ہے جیسے یہ کل ہی بنی ہو۔

شدید گرمی کی تپتی دوپہر، سورج آگ برسا رہا تھا اور لو کے تھپیڑے مکھڈ روڈ ریلوے اسٹیشن کانی گاؤں کے قریب فضا کو مزید بوجھل...
08/06/2026

شدید گرمی کی تپتی دوپہر، سورج آگ برسا رہا تھا اور لو کے تھپیڑے مکھڈ روڈ ریلوے اسٹیشن کانی گاؤں کے قریب فضا کو مزید بوجھل بنا رہے تھے۔ اسی اثنا میں اچانک ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ تھل ایکسپریس کی متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ لمحوں میں چیخ و پکار مچ گئی اور مسافروں کے چہروں پر پریشانی، خوف اور بے یقینی کے بادل چھا گئے۔ ایک ایسی گھڑی جہاں تپتی دھوپ میں سائے کی ایک رمق بھی غنیمت تھی، وہاں مسافر بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے آ گئے۔
مگر ایسے کٹھن وقت میں کانی گاؤں کے غیور اور باہمت لوگوں نے ثابت کر دیا کہ انسانیت نہ تو مری ہے اور نہ ہی کبھی مر سکتی ہے۔
حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح جیسے ہی پھیلی، گاؤں کے نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں نے گرمی کی شدت کی پرواہ کیے بغیر مدد کے لیئے دوڑ پڑے نہ کوئی جان پہچان تھی، نہ کوئی رشتہ داری اور نہ ہی کوئی لالچ—صرف اور صرف انسانیت کا وہ پاکیزہ رشتہ تھا جس نے پورے گاؤں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا۔ لوگ اپنے گھروں سے ٹھنڈا پانی، برف کی بوتلیں، جوس، کھانا اور جو کچھ ان کے بس میں تھا، لے کر حادثے کی جگہ کی طرف دوڑ پڑے۔

یہ وہ مناظر ہیں جو کسی بھی میڈیا کی سب سے بڑی اور سنسنی خیز سرخی سے کہیں زیادہ قیمتی اور معتبر ہیں۔ یہ مناظر دلوں کو حوصلہ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جب مشکل کی گھڑی آتی ہے، تو انسان کی اصل پہچان اس کا عہدہ، دولت یا شہرت نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہاتھ ہوتے ہیں جو کسی اجنبی کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔

کانی گاؤں کے ان عظیم لوگوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہمارے دیہات صرف مٹی کے بنے کچے مکانات نہیں ہیں، بلکہ یہ بڑے دلوں والے، بااخلاق اور مہمان نواز لوگوں کی بستیاں ہیں جہاں دلوں میں محبت کے پکے محل بنے ہوئے ہیں۔ حادثہ یقیناً ایک دلدوز اور افسوسناک واقعہ تھا، لیکن اس کٹھن گھڑی میں کانی گاؤں کے مکینوں نے ایثار، ہمدردی اور بے غرض خدمت کی جو لازوال مثال قائم کی، وہ ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک قابلِ فخر اور قابلِ تقلید روشن مشعل ہے۔
سلام ہے کانی گاؤں کے ان گمنام ہیروز پر، جنہوں نے اس تپتی دوپہر کو اپنی محبت اور خدمت سے مسافروں کے لیے چھاؤں بنا دیا! ❤️

07/06/2026

عام طور پر جب پاکستان میں سیاحت یا خوبصورت آبی ذخائر کا ذکر ہوتا ہے، تو ذہن فوراً سوات، ہنزہ یا آزاد کشمیر کی وادیوں کی طرف نکل جاتا ہے۔ لیکن پوٹھوہار کی تاریخی اور پتھریلی دھرتی "اٹک" اپنے اندر ایک ایسا سحر انگیز راز چھپائے ہوئے ہے، جسے دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ راز ہے ڈھیری لگال ڈیم (مقامی نام: شکردرہ ڈیم)، جسے اگر "پاکستان کا چھوٹا امیزون" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

اٹک شہر سے تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ ڈیم کسی عام سیاحتی مقام جیسا نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ یہ ڈیم اٹک کے مشہور اور پراسرار پہاڑی سلسلے "کالا چٹا" کے گھنے جنگلات اور پتھریلی پہاڑیوں کے عین بیچوں بیچ واقع ہے۔ جب آپ بلندی یا ڈرون کیمرے کی آنکھ سے اس کا نظارہ کرتے ہیں، تو سبز مائل نیلا پانی پہاڑیوں کے درمیان سے بل کھاتا ہوا یوں گزرتا ہے جیسے برازیل کا مشہورِ زمانہ دریا 'امیزون' جنگل کا سینہ چیر کر بہہ رہا ہو۔

Address

Attock

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All About Attock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All About Attock:

Share