11/06/2026
کسی بھی معاشرے کی مادی اور سماجی ترقی میں مواصلات یعنی سڑکوں کے نظام کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ سڑکیں صرف فاصلے ہی کم نہیں کرتیں بلکہ معیشت کا پہیہ چلاتی ہیں، ہسپتالوں تک رسائی آسان بناتی ہیں اور تعلیم کے دروازے کھولتی ہیں۔ لیکن جب انہی سڑکوں کی تعمیر میں کرپشن، نااہلی اور ناقص مٹیریل کا زہر گھول دیا جائے تو وہ ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے عوامی فنڈز کے ضیاع اور شہریوں کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہیں۔ ضلع اٹک میں بوٹا روڈ کی حالیہ تعمیرِ نو اس کی ایک بدترین اور زندہ مثال ہے۔
بوٹا روڈ پر سڑک بنانے کا جو طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے—جس میں تارکول کا فوارہ مار کر اس کے اوپر روایتی انداز میں ٹوکریوں سے بجری (کرش) بکھیر دی جاتی ہے—وہ جدید انجینئرنگ کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اسے تکنیکی زبان میں 'سرفیس ٹریٹمنٹ' یا عام زبان میں 'لکنگ ڈالنا' کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اب سے کئی دہائیاں پہلے متروک ہو چکا ہے۔ اس طریقے سے بنائی گئی سڑک پہلی ہی بارش یا چند مہینوں کی بھاری ٹریفک کے بعد اکھڑ جاتی ہے، بجری باہر نکل آتی ہے اور سڑک دوبارہ گڑھوں کا مزار بن جاتی ہے۔ یہ سڑک کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
اس صورتحال میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال ان مقامی رہنماؤں، چوہدریوں اور "کھڑپیچوں" پر اٹھتا ہے جو ہر گلی محلے میں لیڈری کا دعویٰ کرتے پھرتے ہیں۔ جب سڑک پر یہ ناقص کام ہو رہا ہے، تو یہ مقامی بااثر افراد کیوں خاموش ہیں؟ ان کا فرض ہے کہ وہ موقع پر کھڑے ہو کر ٹھیکیدار کا کام رکوائیں اور متعلقہ حکام سے احتجاج کریں ۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے دیہی اور نیم شہری علاقوں کے یہ کھڑپیچ یا تو ان ٹھیکیداروں کے ساتھ کمیشن کے چکر میں خود حصہ دار ہوتے ہیں، یا پھر وہ اپنے سیاسی آقاؤں (جن کے فنڈز سے یہ سڑک بن رہی ہوتی ہے) کو ناراض کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ ان کی یہ مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں عوامی مفاد سے زیادہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات عزیز ہیں۔
معاشرے کا دوسرا اور سب سے اہم ستون جس پر اس ناانصافی کے خلاف بولنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ ہماری صحافی برادری ہے۔ جمہوری نظام میں صحافت کو "ریاست کا چوتھا ستون" مانا گیا ہے۔ اس ستون کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کی خامیوں پر نظر رکھے، عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچائے اور طاقتور کا احتساب کرے۔ لیکن آج ضلع اٹک اور ملک کے دیگر حصوں میں مقامی سطح پر جو صحافت دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ انتہائی مایوس کن ہے۔
آج کی مقامی صحافت عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے بجائے "سیلفی کلچر" اور "شخصیت پرستی" کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک عام مشاہدہ ہے کہ سڑک پر مٹیریل ناقص ڈل رہا ہو تو صحافی کا کیمرہ وہاں نہیں جاتا، بلکہ وہ کسی ایم پی اے، ایم این اے یا مقامی وڈیرے کے ڈیرے پر جا کر اس کے ساتھ تصویریں کھنچوانے، اس کی چاپلوسی کرنے اور سوشل میڈیا پر فخر سے ان تصویروں کو شیئر کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ جب صحافی خود کو عوام کا وکیل سمجھنے کے بجائے کسی لیڈر کا مداح اور پی آر مینیجر بنا لے، تو صحافت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ صحافت اپنے پسندیدہ لیڈروں کے ساتھ کھڑے ہو کر فخر کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ان لیڈروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے ان کی کارکردگی کا حساب مانگنے کا نام ہے۔
جب تک صحافی برادری لفافے، ذاتی تعلقات اور مراعات کے چکر سے باہر نکل کر بوٹا روڈ جیسے منصوبوں پر تحقیقاتی رپورٹنگ نہیں کرے گی، تب تک بیوروکریسی اور ٹھیکیدار مل کر عوام کا پیسہ اسی طرح لوٹتے رہیں گے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ محکمہ ہائی وے اور ڈپٹی کمشنر اٹک کو کٹہرے میں لائیں اور ان سے پوچھیں کہ اس سڑک کے لیے کتنا بجٹ منظور ہوا تھا اور اس میں کون سا مٹیریل استعمال ہونا طے پایا تھا؟
آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اگر چوتھا ستون گر چکا ہے اور مقامی رہنما بک چکے ہیں، تو اب اصل طاقت خود عوام کے ہاتھ میں ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شہری خود ایک صحافی ہے۔ بوٹا روڈ کے ناقص کام کی ویڈیوز بنا کر اعلیٰ حکام تک پہنچانا، سوشل میڈیا پر مہم چلانا اور اس ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کرنا اب شہریوں کا فرض بن چکا ہے۔ جب تک عوام خود بیدار ہو کر اپنے ٹیکس کے پیسے کا حساب نہیں مانگے گی، تب تک یہ کرپٹ نظام اور سیلفی مارکہ صحافت اسی طرح چلتی رہے گی۔
میں سیلوٹ پیش کرتا
میاں ضیاء صاحب کو جو صحافت کا حق ادا کر رہے ہیں اور بغیر کسی لالچ کے اٹک اور گردو نواح کے مسائل کو مقدور بھر اجاگر کررہے ہیں