05/09/2026
*✨ انسان اور مٹی ✨*
انسان کی کہانی اللہ کی سب سے عجیب اور سب سے خوبصورت کہانی ہے۔
*پہلا مرحلہ: مٹی سے تخلیق*
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔ فرشتے نے کہا وہ زمین میں فساد کرے گا، اللہ نے کہا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ پھر اللہ نے دنیا کی مختلف جگہوں سے مٹی منگوائی - کہیں سے کالی، کہیں سے سرخ، کہیں سے سفید، کہیں سے نرم، کہیں سے سخت۔ اسی لیے انسانوں کے رنگ، مزاج، طبیعتیں مختلف ہیں۔ اس مٹی کو گوندھا گیا، اسے سڑی ہوئی بدبودار مٹی بنایا گیا، پھر ٹھیکری جیسی بجنے والی مٹی بنایا گیا، پھر اللہ نے اس میں اپنی روح پھونکی تو وہ بولنے لگا، دیکھنے لگا، سوچنے لگا۔
*دوسرا مرحلہ: مٹی پر زندگی*
پیدا ہونے کے بعد بھی انسان مٹی کا محتاج ہے۔
1. _رزق مٹی سے:_ جو روٹی کھاتا ہے وہ مٹی سے اگتی ہے۔
2. _لباس مٹی سے:_ کپاس مٹی سے نکلتی ہے۔
3. _مکان مٹی سے:_ اینٹ، پتھر، سیمنٹ، سب مٹی ہے۔
4. _دوائی مٹی سے:_ ہزاروں دوائیاں اسی زمین سے نکلتی ہیں۔
5. _پانی بھی مٹی سے:_ جو پانی پیتا ہے، وہ بھی اسی مٹی کے اندر سے چشموں کی صورت میں نکلتا ہے۔
یعنی انسان ساری زندگی مٹی کا کھاتا ہے ۔
*تیسرا مرحلہ: مٹی میں واپسی*
آخر میں جب روح نکل جاتی ہے تو یہ خوبصورت جسم، یہ حسن، یہ طاقت، سب بے کار ہو جاتا ہے۔ دوست، رشتہ دار خود اسے اٹھا کر اسی مٹی میں دبا دیتے ہیں جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔ جس مٹی پر وہ اکڑ کر چلتا تھا، وہی مٹی اس کے اوپر ڈال دی جاتی ہے۔ کچھ دنوں میں یہی جسم دوبارہ مٹی بن جاتا ہے۔
*سبق کیا ہے؟*
جب ابتدا مٹی، درمیان مٹی، اور انتہا بھی مٹی ہے، تو پھر غرور کیسا؟ تکبر کیسا؟ لڑائی کس بات کی؟
جو انسان اپنی اوقات یعنی مٹی کو یاد رکھتا ہے، وہ کبھی کسی کا دل نہیں دکھاتا، وہ عاجز رہتا ہے، اور عاجز انسان کو اللہ اور لوگ دونوں پسند کرتے ہیں۔
*تحریر: ریاض احمد چوہدری نقشبندی*