30/01/2026
عوام ،سیاسی لیڈران ،سماجی کارکنان ،سجادگان اور مذہبی نمائندگان کے نام!
از قلم ۔ جاوید اقبال علیمی
قسط دوم ۔
سیاسی لیڈران کے نام!
اے اہل ایمان ارباب سیاست !
اس حقیقت کو جان لیں کہ ہمارا دین صرف نماز ،روزے، حج، زکاۃ کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے ۔سیاست بھی اسی نظام حیات کا ایک اہم جزو ہے ۔اور سیاست باہمی افتراق وانتشار ،ایک دوسرے کو ذلیل ورسوا کرنے کے داؤ پیچ جاننے یا جھوٹ ،غیبت ،حسد اور آپسی گالم گلوچ نیز مفاد پرستی و ذاتی ترجیحات کا نام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف مسائل کا ادراک کرنے اور ان کا قابل عمل حل پیش کرنے کا نام سیاست ہے ۔ نظم اجتماعی کی تدبیر کا نام سیاست ہے۔اور یہ سیاست ایک مقدس فریضہ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی میراث ہے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے۔جوشخص بھی انبیائے کرام علیہم السلام کے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں دلچسپی رکھتا ہے ،اسے چاہیے کہ اس کے آداب سیکھے اور اس کے لیے خلفائے راشدین اور امت کے دیگر انصاف پسند حکمرانوں کو اپنا آئیڈیل بنائے۔علاوہ ازیں علمائے حق سے ہمیشہ رہنمائی لیتا رہے۔
اے ارباب سیاست !
جان لیجیے کہ آپ علمائے حق سے کسی صورت بے نیاز نہیں ہوسکتے۔شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمہ اللہ "ذخیرۃ الملوک " میں لکھتے ہیں :
" حاکم کو چاہیے کہ وہ علماء اور صلحاء کی ہم نشینی اور زیارت کو اپنے اوپر لازم کرے۔اگر چہ حقیقی علماء اور صلحاء آج کے زمانے میں نہایت کم یاب ہیں تاہم اگر ایسی کسی ہستی کا پتہ چلے تو حاکم وقت کو ان کی خدمت میں ضرور حاضری دینی چاہیے۔اسی طرح بدباطن اور گنہگار لوگوں کی صحبت سے گریز کرنا چاہیے۔بطور خاص وہ دنیا دار جو علماء ومشائخ کا سا رہن سہن اختیار کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے ہر ظالم حکمران کی تعریف کرتے ہیں "۔
یہاں سیاق کلام کی مناسبت سے ایک واقعہ بھی ملاحظہ ہو جو اہل علم کی صحبت اور ہم نشینی کا شوق دلاتا ہے اور اس کو شاہ ہمدان علیہ الرحمہ نے مذکورہ کتاب میں نقل فرمایا ہے ۔مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید تخت نشیں ہونے سے پہلے علماء وصوفیا اور صالحین سے محبت کرتا تھا اور دنیا داروں سے بیزار تھا ۔تخت نشین ہونے کے بعد تمام علماء اور صلحاء اس کو مبارک باد دینے آئے لیکن مشہور محدث اور صوفی بزرگ امام سفیان ثوری علیہ الرحمہ نہ آئے ،حالانکہ ان سے ہارون رشید کو خاص عقیدت تھی۔لہذا ہارون نے انہیں خط لکھا اور امور خلافت میں رہنمائی چاہی، امام سفیان ثوری نے جوابی خط میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور لکھا کہ میں نے تم سے اس شرط پر دوستی کی تھی کہ تم خواہش نفس کو معبود نہیں بناؤ گے اور مردار دنیا سے بیزار رہو گے ،تم نے ان شرائط کی پاسداری نہیں کی ،لہذا میرا اور تمہارا راستہ الگ الگ ہے اس کے بعد کا معاملہ شاہ ہمدان کی زبانی سنیے :
" ہارون نے جب یہ جواب پڑھا تو رو پڑا ۔جب رات کا وقت ہوا تو ایک بوسیدہ لباس پہن کر حضرت سفیان ثوری کے دروازے کے باہر جا کر بیٹھ گیا۔صبح نماز کے وقت جب آپ گھر سے باہر نکلے تو ہارون نے آپ کو سلام کیا۔آپ نے چہرہ پھیر کر کہا میں تم سے بیزار ہوں۔ہارون رو پڑا اور عرض کی آپ کا مجھ سے بیزار ہونا آسان ہے کیونکہ آپ اہل دنیا سے گریز کرتے ہیں لیکن میں آپ سے گریز نہیں کرسکتا کیونکہ میں اپنی آخرت سے بے نیاز نہیں ہوں(یعنی اپنی آخرت کی اصلاح کے لیے مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے )"۔
اے ارباب سیاست!
وہ آدمی کیوں کر عقل مند ہوسکتا ہے جو دوسروں کی دنیا بناتے بناتے یا اپنی دنیا کی فکر میں اپنی آخرت برباد کردے ۔آپ ایک تکثیری سماج کا حصہ ہیں ،جہاں آپ کو سیاسی معاملات حل کرنے یا عملی سیاست کے دوسرے مراحل میں شرعی رہنمائی اور دینی اصلاح کی ضرورت پڑے گی ،وہاں علمائے حق ہی آپ کی خیر خواہی اور رہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتے ہیں ۔لہذا ایسے علماء کو تلاش کریں اور انہیں غنیمت سمجھیں جنہیں آپ کی دنیا سے کوئی مطلب نہ ہو لیکن وہ آپ کے دین وایمان کی حفاظت اور اعمال صالحہ پر مداومت میں آپ کے معاون ومددگار ہوں ۔ایسے علماء کی خدمت کرنا آپ کے لیے سعادت مندی ہے ۔ وہ عالم نماافراد جنہیں آپ کے مال ومتاع سے بڑا شغف ہے لیکن وہ آپ کی دینی وشرعی تربیت میں کوئی کردار نہیں ادا کرتے ،ایسوں کی مجلس وہم نشینی آپ کے دین ودنیا دونوں کے خسارے کا سبب بن سکتی ہے ۔لہذا آپ اپنے حال کے مطابق علمائے حق سے ضرور رہنمائی لیتے رہیں لیکن سیاست حاضرہ کو پیش نظر رکھ کر فقیر راقم کی درج ذیل معروضات کو بھی قابل اعتنا سمجھیں تو اپنی عملی سیاست میں ان کی برکتیں ضرور محسوس کریں گے:
۱۔ ہم ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں ۔یہاں کسی بھی سیاسی پارٹی کا حصہ بننا ہم میں سے ہر کسی کا جمہوری حق ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی یا ملکی سطح کی تمام پارٹیاں اپنے اندر خوبیاں اور کمیاں رکھتی ہیں ۔ہاں مگر بعض کی کمیاں بعض کی نسبت زیادہ نقصان کا باعث ہیں ۔ہمیں فائدہ ونقصان کو ذاتی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر ملک وملت کے مفادوخسارےمیں دیکھنا چاہیے ۔اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے مفاد کے لیے کام کرنے والوں کو وقتی مراعات اور آسائشیں میسر آجاتی ہیں لیکن تاریخ انھیں اچھے ناموں سے یاد نہیں کرتی ۔لہذا اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں دنیا کی عارضی سہولیات کے حصول کی خاطردنیااور آخرت کی حسرت وندامت مقدر نہ بن جائے اور کل بروز قیامت ہماری حسرت کا یہ عالم ہو کہ بالفاظ قرآن ہماری زبانوں پر جاری ہو "یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا" ۔ہائے افسوس! کاش میں نےفلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
۲۔ آپ ایک سیاسی رہنما ہیں ۔رہنما کا اچھا یا برا کردار عوام پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ایک روایت مشہور ہے کہ " الناس علی دین ملوکھم " ۔لوگ اپنے بادشاہوں/حکمرانوں کے دین/طور طریقے پر ہوتے ہیں ۔حکمران کے بگڑنے سے نظام بھی بگڑتا ہے ۔ہمارے یہاں بہت سے غیر شرعی کاموں پر عوام کو دلیر بنانے میں بڑا کردار سیاسی لیڈران کا بھی ہے ۔ڈھول باجا ہی کی مثال لےلیجیے کہ بہت سی جگہوں پر سیاسی لیڈران اس سے بچ سکتے ہیں لیکن اس کے بغیر ان کے جشن کی شاید ہی کوئی تقریب انجام پاتی ہو۔شادی، بیاہ اور دیگر تقریبات میں موسیقی وڈانس اور غیر محرموں کے ساتھ اختلاط اس پر مستزاد ہے ۔آپ کا منصب تو یہ ہے کہ اگر کسی برائی اور غیر شرعی کام کو دیکھیں تو اپنی طاقت سے اس کو روک دیں ،اس کے برعکس اگر خود اسی برائی میں ملوث ہوجائیں تو یہ کس قدر افسوس ناک ہے ۔" ذخیرۃ الملوک" میں ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے مشہور صوفی بزرگ حضرت شفیق بلخی علیہ الرحمہ سے نصیحت طلب کی تو انھوں نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:"اے امیر المومنین خدا کی ایک سرائے ہے جس کا نام دوزخ ہے ،خدا نے تمہیں اس کا دربان بنایا ہے اور تمہیں تین چیزیں عطا کی ہیں تاکہ تم ان کی مدد سے لوگوں کو دوزخ میں جانے سے روکو، وہ تین چیزیں مال،تلوار اور تازیانہ(کوڑا) ہیں۔مال کے ذریعے تم محتاجوں کی حاجت روائی کرکے انہیں حرام کھانے سے روک سکتے ہو۔تلوار کی مدد سے تم ظالموں کو ظلم کے ارتکاب سے باز رکھ سکتے ہو اور تازیانہ کی مدد سے تم گنہگاروں کو نیکی کی ہدایت کرسکتے ہو ۔اگر تم یہ تینوں کام کر لو گے تو اپنے ساتھ باقی مخلوق کو بھی جہنم میں داخل ہونے سے بچا لو گےاور اگر تم نے اس کام میں کوئی کوتاہی کی تو سب سے پہلے تم خود جہنم میں داخل ہوگے اور تمہارے پیچھے دوسرے گنہگار لوگ اس میں داخل ہوں گے۔
۳۔ عاجزی اختیار کریں اور تکبر وخودپسندی سے بچیں۔بہت سے سیاسی لیڈران کی گفتگو اور لہجے میں عجب قسم کی رعونت دیکھی گئی ہے ۔خاص کر اپنے کسی سیاسی حریف پر تنقید کرتے وقت نہایت متکبرانہ انداز اپنایا جاتا ہے ۔ ایک دوسرے کے نام بگاڑے جاتے ہیں ،ذاتیات پر حملے ہوتے ہیں ۔ اپنے ماتحتوں اور سرکاری ملازمین کے ساتھ حقارت آمیز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ماتحتوں کی بدعنوانیوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے ،ان کے غیر قانونی عمل اور جرم کی قرار واقعی سزا بھی قانونی دائرے میں ہونی چاہیے لیکن ان کی تحقیر وتذلیل کا ایساغیر اخلاقی پہلو نہیں نکالنا چاہیے جو آپ کے تکبر کی طرف مشیر ہو۔تکبر ایک انتہائی ناپسندیدہ رویہ ہے جو انسان کو دوسروں کی نظروں سے گرادیتا ہے ،جب کہ عاجزی وانکساری انسان کو معزز بناتی ہے ۔حال ہی میں ایک سیاسی لیڈر نے تکبر کرتے ہوئے ایک قبائلی اور غریب بزرگ کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایا تو لوگوں نے اس پر کیسا رد عمل دیا سب کو معلوم ہے ۔۔لیڈر اور حکمران کو چاہیے کہ وہ مخلوق خدا کے ساتھ تواضع سے پیش آئے ۔حدیث پاک میں ہے :" من تواضع للہ ،رفعہ اللہ" جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے ،اللہ اسے بلندی عطافرمائے گا۔ایک دوسری روایت ہے : "جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر موجود ہوگا ،وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا "۔یہ تکبر ہی تو تھا جس نے شیطان کو ابدی ذلت میں مبتلا کیا ۔شیخ سعدی شیرازی کے یہ اشعار کس قدر نصیحت آموز ہیں
تکبر مکن زینہار اے پسر
کہ روزے زدستش در آئی بسر
اے بیٹے ! تکبر ہر گز نہ کر ۔ کہ تو ایک دن اس کے ہاتھ سے سر کے بل آئے گا۔
تکبر بود عادت جاہلاں
تکبر نیاید زصاحب دلاں
تکبر تو جاہلوں کی عادت ہوتی ہے ،تکبر دل والوں سے نہیں آتا۔
تکبر عزازیل را خوار کرد
بزندان لعنت گرفتار کرد
تکبر نے شیطان کو رسوا کیا ،لعنت کے قید خانے میں قید کیا ۔
۴ ۔ لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئیں ۔بالخصوص کمزور اور غریب عوام کے ساتھ شفقت اور نرمی کا مظاہرہ کریں ۔حدیث پاک میں ہے کہ : " بہترین حکمران وہ ہے جس سے لوگ محبت کریں اور وہ لوگوں سے محبت کرے "۔
۵ ۔ عوام کے مسائل حل کرنے میں انصاف سے کام لیں ۔فیصلہ کرنے سے پہلے معاملہ کی ہر پہلو سے چھان بین کرلیں۔آپ کی غفلت سے کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے ۔شاہ ہمدان نقل فرماتے ہیں کہ: " ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ لوگ مجھے خلیفۃ المسلمین کہتے ہیں ،میرے اور میری خلافت کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ¿ انھوں نے جواب دیا: اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بکری کا بچہ بھی آپ کی عدم توجہ یا کوتاہی کے باعث ہلاک ہوجائے تو آپ کو ایک اچھا خلیفہ قرار دینا درست نہیں ہوگا"۔
باتیں بہت سی ہیں لیکن طوالت کے خوف سے اس مشورے پر اکتفا کرتا ہوں کہ گاہے گاہے سہی ،رسول اللہ ﷺکی سیرت ،خلفائے راشدین کے حالات کا مطالعہ کرلیا کریں اور اگر توفیق ملے تو شاہ ہمدان محسن کشمیر سیدنا امیر کبیر سید علی ہمدانی کی تصنیف لطیف " ذخیرۃ الملوک " کا مکمل یا کم از کم امور سلطنت سے متعلق باب کا مطالعہ ضرور فرمالیں ۔
"وماالحيوة الدنيا إلا متاع الغرور"
دنیاکی زندگی تو دھوکے کامال ہے
(جاری)