Javaid Iqbal Alimi Official

Javaid Iqbal Alimi Official منزل عشق بھی یہی،جادۂ عشق بھی یہی
نقش قدم حضور کا اپنا ہے رہنما فقط

عوام ،سیاسی لیڈران ،سماجی کارکنان ،سجادگان اور مذہبی نمائندگان کے نام!از قلم ۔ جاوید اقبال علیمی قسط دوم ۔سیاسی لیڈران ک...
30/01/2026

عوام ،سیاسی لیڈران ،سماجی کارکنان ،سجادگان اور مذہبی نمائندگان کے نام!

از قلم ۔ جاوید اقبال علیمی
قسط دوم ۔
سیاسی لیڈران کے نام!

اے اہل ایمان ارباب سیاست !

اس حقیقت کو جان لیں کہ ہمارا دین صرف نماز ،روزے، حج، زکاۃ کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے ۔سیاست بھی اسی نظام حیات کا ایک اہم جزو ہے ۔اور سیاست باہمی افتراق وانتشار ،ایک دوسرے کو ذلیل ورسوا کرنے کے داؤ پیچ جاننے یا جھوٹ ،غیبت ،حسد اور آپسی گالم گلوچ نیز مفاد پرستی و ذاتی ترجیحات کا نام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف مسائل کا ادراک کرنے اور ان کا قابل عمل حل پیش کرنے کا نام سیاست ہے ۔ نظم اجتماعی کی تدبیر کا نام سیاست ہے۔اور یہ سیاست ایک مقدس فریضہ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی میراث ہے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے۔جوشخص بھی انبیائے کرام علیہم السلام کے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں دلچسپی رکھتا ہے ،اسے چاہیے کہ اس کے آداب سیکھے اور اس کے لیے خلفائے راشدین اور امت کے دیگر انصاف پسند حکمرانوں کو اپنا آئیڈیل بنائے۔علاوہ ازیں علمائے حق سے ہمیشہ رہنمائی لیتا رہے۔

اے ارباب سیاست !
جان لیجیے کہ آپ علمائے حق سے کسی صورت بے نیاز نہیں ہوسکتے۔شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمہ اللہ "ذخیرۃ الملوک " میں لکھتے ہیں :
" حاکم کو چاہیے کہ وہ علماء اور صلحاء کی ہم نشینی اور زیارت کو اپنے اوپر لازم کرے۔اگر چہ حقیقی علماء اور صلحاء آج کے زمانے میں نہایت کم یاب ہیں تاہم اگر ایسی کسی ہستی کا پتہ چلے تو حاکم وقت کو ان کی خدمت میں ضرور حاضری دینی چاہیے۔اسی طرح بدباطن اور گنہگار لوگوں کی صحبت سے گریز کرنا چاہیے۔بطور خاص وہ دنیا دار جو علماء ومشائخ کا سا رہن سہن اختیار کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے ہر ظالم حکمران کی تعریف کرتے ہیں "۔
یہاں سیاق کلام کی مناسبت سے ایک واقعہ بھی ملاحظہ ہو جو اہل علم کی صحبت اور ہم نشینی کا شوق دلاتا ہے اور اس کو شاہ ہمدان علیہ الرحمہ نے مذکورہ کتاب میں نقل فرمایا ہے ۔مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید تخت نشیں ہونے سے پہلے علماء وصوفیا اور صالحین سے محبت کرتا تھا اور دنیا داروں سے بیزار تھا ۔تخت نشین ہونے کے بعد تمام علماء اور صلحاء اس کو مبارک باد دینے آئے لیکن مشہور محدث اور صوفی بزرگ امام سفیان ثوری علیہ الرحمہ نہ آئے ،حالانکہ ان سے ہارون رشید کو خاص عقیدت تھی۔لہذا ہارون نے انہیں خط لکھا اور امور خلافت میں رہنمائی چاہی، امام سفیان ثوری نے جوابی خط میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور لکھا کہ میں نے تم سے اس شرط پر دوستی کی تھی کہ تم خواہش نفس کو معبود نہیں بناؤ گے اور مردار دنیا سے بیزار رہو گے ،تم نے ان شرائط کی پاسداری نہیں کی ،لہذا میرا اور تمہارا راستہ الگ الگ ہے اس کے بعد کا معاملہ شاہ ہمدان کی زبانی سنیے :
" ہارون نے جب یہ جواب پڑھا تو رو پڑا ۔جب رات کا وقت ہوا تو ایک بوسیدہ لباس پہن کر حضرت سفیان ثوری کے دروازے کے باہر جا کر بیٹھ گیا۔صبح نماز کے وقت جب آپ گھر سے باہر نکلے تو ہارون نے آپ کو سلام کیا۔آپ نے چہرہ پھیر کر کہا میں تم سے بیزار ہوں۔ہارون رو پڑا اور عرض کی آپ کا مجھ سے بیزار ہونا آسان ہے کیونکہ آپ اہل دنیا سے گریز کرتے ہیں لیکن میں آپ سے گریز نہیں کرسکتا کیونکہ میں اپنی آخرت سے بے نیاز نہیں ہوں(یعنی اپنی آخرت کی اصلاح کے لیے مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے )"۔

اے ارباب سیاست!
وہ آدمی کیوں کر عقل مند ہوسکتا ہے جو دوسروں کی دنیا بناتے بناتے یا اپنی دنیا کی فکر میں اپنی آخرت برباد کردے ۔آپ ایک تکثیری سماج کا حصہ ہیں ،جہاں آپ کو سیاسی معاملات حل کرنے یا عملی سیاست کے دوسرے مراحل میں شرعی رہنمائی اور دینی اصلاح کی ضرورت پڑے گی ،وہاں علمائے حق ہی آپ کی خیر خواہی اور رہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتے ہیں ۔لہذا ایسے علماء کو تلاش کریں اور انہیں غنیمت سمجھیں جنہیں آپ کی دنیا سے کوئی مطلب نہ ہو لیکن وہ آپ کے دین وایمان کی حفاظت اور اعمال صالحہ پر مداومت میں آپ کے معاون ومددگار ہوں ۔ایسے علماء کی خدمت کرنا آپ کے لیے سعادت مندی ہے ۔ وہ عالم نماافراد جنہیں آپ کے مال ومتاع سے بڑا شغف ہے لیکن وہ آپ کی دینی وشرعی تربیت میں کوئی کردار نہیں ادا کرتے ،ایسوں کی مجلس وہم نشینی آپ کے دین ودنیا دونوں کے خسارے کا سبب بن سکتی ہے ۔لہذا آپ اپنے حال کے مطابق علمائے حق سے ضرور رہنمائی لیتے رہیں لیکن سیاست حاضرہ کو پیش نظر رکھ کر فقیر راقم کی درج ذیل معروضات کو بھی قابل اعتنا سمجھیں تو اپنی عملی سیاست میں ان کی برکتیں ضرور محسوس کریں گے:

۱۔ ہم ایک جمہوری ملک کے باشندے ہیں ۔یہاں کسی بھی سیاسی پارٹی کا حصہ بننا ہم میں سے ہر کسی کا جمہوری حق ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی یا ملکی سطح کی تمام پارٹیاں اپنے اندر خوبیاں اور کمیاں رکھتی ہیں ۔ہاں مگر بعض کی کمیاں بعض کی نسبت زیادہ نقصان کا باعث ہیں ۔ہمیں فائدہ ونقصان کو ذاتی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر ملک وملت کے مفادوخسارےمیں دیکھنا چاہیے ۔اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے مفاد کے لیے کام کرنے والوں کو وقتی مراعات اور آسائشیں میسر آجاتی ہیں لیکن تاریخ انھیں اچھے ناموں سے یاد نہیں کرتی ۔لہذا اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں دنیا کی عارضی سہولیات کے حصول کی خاطردنیااور آخرت کی حسرت وندامت مقدر نہ بن جائے اور کل بروز قیامت ہماری حسرت کا یہ عالم ہو کہ بالفاظ قرآن ہماری زبانوں پر جاری ہو "یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا" ۔ہائے افسوس! کاش میں نےفلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

۲۔ آپ ایک سیاسی رہنما ہیں ۔رہنما کا اچھا یا برا کردار عوام پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ایک روایت مشہور ہے کہ " الناس علی دین ملوکھم " ۔لوگ اپنے بادشاہوں/حکمرانوں کے دین/طور طریقے پر ہوتے ہیں ۔حکمران کے بگڑنے سے نظام بھی بگڑتا ہے ۔ہمارے یہاں بہت سے غیر شرعی کاموں پر عوام کو دلیر بنانے میں بڑا کردار سیاسی لیڈران کا بھی ہے ۔ڈھول باجا ہی کی مثال لےلیجیے کہ بہت سی جگہوں پر سیاسی لیڈران اس سے بچ سکتے ہیں لیکن اس کے بغیر ان کے جشن کی شاید ہی کوئی تقریب انجام پاتی ہو۔شادی، بیاہ اور دیگر تقریبات میں موسیقی وڈانس اور غیر محرموں کے ساتھ اختلاط اس پر مستزاد ہے ۔آپ کا منصب تو یہ ہے کہ اگر کسی برائی اور غیر شرعی کام کو دیکھیں تو اپنی طاقت سے اس کو روک دیں ،اس کے برعکس اگر خود اسی برائی میں ملوث ہوجائیں تو یہ کس قدر افسوس ناک ہے ۔" ذخیرۃ الملوک" میں ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے مشہور صوفی بزرگ حضرت شفیق بلخی علیہ الرحمہ سے نصیحت طلب کی تو انھوں نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:"اے امیر المومنین خدا کی ایک سرائے ہے جس کا نام دوزخ ہے ،خدا نے تمہیں اس کا دربان بنایا ہے اور تمہیں تین چیزیں عطا کی ہیں تاکہ تم ان کی مدد سے لوگوں کو دوزخ میں جانے سے روکو، وہ تین چیزیں مال،تلوار اور تازیانہ(کوڑا) ہیں۔مال کے ذریعے تم محتاجوں کی حاجت روائی کرکے انہیں حرام کھانے سے روک سکتے ہو۔تلوار کی مدد سے تم ظالموں کو ظلم کے ارتکاب سے باز رکھ سکتے ہو اور تازیانہ کی مدد سے تم گنہگاروں کو نیکی کی ہدایت کرسکتے ہو ۔اگر تم یہ تینوں کام کر لو گے تو اپنے ساتھ باقی مخلوق کو بھی جہنم میں داخل ہونے سے بچا لو گےاور اگر تم نے اس کام میں کوئی کوتاہی کی تو سب سے پہلے تم خود جہنم میں داخل ہوگے اور تمہارے پیچھے دوسرے گنہگار لوگ اس میں داخل ہوں گے۔

۳۔ عاجزی اختیار کریں اور تکبر وخودپسندی سے بچیں۔بہت سے سیاسی لیڈران کی گفتگو اور لہجے میں عجب قسم کی رعونت دیکھی گئی ہے ۔خاص کر اپنے کسی سیاسی حریف پر تنقید کرتے وقت نہایت متکبرانہ انداز اپنایا جاتا ہے ۔ ایک دوسرے کے نام بگاڑے جاتے ہیں ،ذاتیات پر حملے ہوتے ہیں ۔ اپنے ماتحتوں اور سرکاری ملازمین کے ساتھ حقارت آمیز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ماتحتوں کی بدعنوانیوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے ،ان کے غیر قانونی عمل اور جرم کی قرار واقعی سزا بھی قانونی دائرے میں ہونی چاہیے لیکن ان کی تحقیر وتذلیل کا ایساغیر اخلاقی پہلو نہیں نکالنا چاہیے جو آپ کے تکبر کی طرف مشیر ہو۔تکبر ایک انتہائی ناپسندیدہ رویہ ہے جو انسان کو دوسروں کی نظروں سے گرادیتا ہے ،جب کہ عاجزی وانکساری انسان کو معزز بناتی ہے ۔حال ہی میں ایک سیاسی لیڈر نے تکبر کرتے ہوئے ایک قبائلی اور غریب بزرگ کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایا تو لوگوں نے اس پر کیسا رد عمل دیا سب کو معلوم ہے ۔۔لیڈر اور حکمران کو چاہیے کہ وہ مخلوق خدا کے ساتھ تواضع سے پیش آئے ۔حدیث پاک میں ہے :" من تواضع للہ ،رفعہ اللہ" جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے ،اللہ اسے بلندی عطافرمائے گا۔ایک دوسری روایت ہے : "جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر موجود ہوگا ،وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا "۔یہ تکبر ہی تو تھا جس نے شیطان کو ابدی ذلت میں مبتلا کیا ۔شیخ سعدی شیرازی کے یہ اشعار کس قدر نصیحت آموز ہیں ؂

تکبر مکن زینہار اے پسر
کہ روزے زدستش در آئی بسر

اے بیٹے ! تکبر ہر گز نہ کر ۔ کہ تو ایک دن اس کے ہاتھ سے سر کے بل آئے گا۔

تکبر بود عادت جاہلاں
تکبر نیاید زصاحب دلاں

تکبر تو جاہلوں کی عادت ہوتی ہے ،تکبر دل والوں سے نہیں آتا۔

تکبر عزازیل را خوار کرد
بزندان لعنت گرفتار کرد

تکبر نے شیطان کو رسوا کیا ،لعنت کے قید خانے میں قید کیا ۔

۴ ۔ لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئیں ۔بالخصوص کمزور اور غریب عوام کے ساتھ شفقت اور نرمی کا مظاہرہ کریں ۔حدیث پاک میں ہے کہ : " بہترین حکمران وہ ہے جس سے لوگ محبت کریں اور وہ لوگوں سے محبت کرے "۔

۵ ۔ عوام کے مسائل حل کرنے میں انصاف سے کام لیں ۔فیصلہ کرنے سے پہلے معاملہ کی ہر پہلو سے چھان بین کرلیں۔آپ کی غفلت سے کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہونے پائے ۔شاہ ہمدان نقل فرماتے ہیں کہ: " ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ لوگ مجھے خلیفۃ المسلمین کہتے ہیں ،میرے اور میری خلافت کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ¿ انھوں نے جواب دیا: اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بکری کا بچہ بھی آپ کی عدم توجہ یا کوتاہی کے باعث ہلاک ہوجائے تو آپ کو ایک اچھا خلیفہ قرار دینا درست نہیں ہوگا"۔

باتیں بہت سی ہیں لیکن طوالت کے خوف سے اس مشورے پر اکتفا کرتا ہوں کہ گاہے گاہے سہی ،رسول اللہ ﷺکی سیرت ،خلفائے راشدین کے حالات کا مطالعہ کرلیا کریں اور اگر توفیق ملے تو شاہ ہمدان محسن کشمیر سیدنا امیر کبیر سید علی ہمدانی کی تصنیف لطیف " ذخیرۃ الملوک " کا مکمل یا کم از کم امور سلطنت سے متعلق باب کا مطالعہ ضرور فرمالیں ۔

"وماالحيوة الدنيا إلا متاع الغرور"
دنیاکی زندگی تو دھوکے کامال ہے

(جاری)

سفر راجستھان!از قلم ۔جاوید اقبال علیمی08/10/2025بنیادی طور پر اس سفر کا مقصد عزیزم مولانا تحسین رضا اشفاقی کی  دستار افت...
09/10/2025

سفر راجستھان!

از قلم ۔جاوید اقبال علیمی
08/10/2025

بنیادی طور پر اس سفر کا مقصد عزیزم مولانا تحسین رضا اشفاقی کی دستار افتا کی تقریب میں شریک ہونا ہے ۔موصوف نے فیضان اشفاق ناگور سے درس نظامی اور افتا کا کورس مکمل کیا ہے ۔ان کے والد گرامی حضرت مولانا مستحسن صاحب کی خواہش پر ان کی خوشی میں شریک ہونے کو ترجیح دی ۔پوجا ایکسپریس کا ٹکٹ انھوں نے اپنے صاحبزادے مذکور سے بنوا دیا تھا ۔ کل دوپہر میں ڈاکٹر صدیق ملک ،مفتی عبد القدیر ا،مفتی محمد تحسین اور راقم اجمیر پہنچے تھے ۔رات کو اجمیر مقدس میں قیام کیا اور وقفے وقفے سے تین مرتبہ دربار خواجہ میں حاضری کا شرف پایا ،فاتحہ خوانی کی اور روح پرور فضا میں دعاؤں اور التجاؤں کا لطف اٹھانے کے بعد آج بذریعہ کیب ناگور کے لیے محو سفر ہیں ۔

دنیا میں کشمیر کی خوبصورتی کی مثالیں دی جاتی ہیں اور یقینا اللہ پاک نے اس خطہ ارض کو خصوصی فطری حسن سے نوازا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی زمین کا ہر خطہ اپنی ایک الگ کشش رکھتا ہے ۔راجستھان جہاں اپنی تہذیب وثقافت کی بنیاد پر منفرد شناخت رکھتا ہے وہاں کچھ ارضی خصوصیات بھی رکھتا ہے ۔دوران سفر مختلف گھاٹیوں، چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اورحد نگاہ تک پھیلے کھیتوں کے مناظر دیکھنے والے کی آنکھوں کے ذریعہ دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔ بہرحال راستے میں ایک مقام پر تھوڑا سستانے اور چائے نوشی کرنے کے بعد پھر سے پابہ رکاب ہوچکے ہیں ۔۔

جاری۔۔۔۔

03/10/2025

📖دنیا دار خطباء، انا پرست مناظرین کا طرز عمل اور ان کی روح سے عاری خطابت اور مناظرے
تحریر:
پروفیسر سید خالد جامعی
جامعہ کراچی



عالم اسلام پر چند رویے تباہ کن حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں اور عالم اسلام کی نئی تشکیل میں نہایت خوفناک کردار ادا کر رہے ہیں، ان میں ایک رویہ موجودہ خطابت بھی ہے، دنیا دار خطباء کا طرز عمل اور روح سے عاری خطبات امت کے زوال میں اہم کردار رہا ہے، خطابت ایک ایسا رویہ ہے جو صبر، برداشت، سنجیدگی اور تحمل کی صفات کا خاتمہ کرکے عجلت اور فوری اقدام کے حالات پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں امت مزید منتشر اور کمزور ہوتی ہے، علمیت کی جگہ خطابت کا رویہ امت کےلئے نہایت مہلک ہے _

ہر تحریک میں پذیرائی اس شخص کو ملتی ہے جو آتش بیان خطیب ہو، جو فراز کوہ سے خطاب کرے اور طلاقت لسانی سے کوہ و دمن، صحرا و چمن اور پانی میں آگ لگا دے، اس کی خطابت سیل رواں کی طرح دیو ہیکل پہاڑوں کو روند کر ادھر ادھر سے راستے بنا لے، جو مجمع اکٹھا کرے اور ہجوم کو لمحوں میں متحرک کر دے لہذا قیادت علماء کے بجائے سیمابی انقلابی صفت خطباء کے ہاتھ میں آگئی ہے جو ذہن اور قلب کے بجائے صرف زبان سے سوچتے ہیں، یہ وہی خطباء و قراء ہیں جن کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
مررْتُ ليلةَ أُسرِيَ بي بأقوامٍ تُقرضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ من نارٍ، قُلْتُ من هؤلاءِ يا جبريلُ؟ قال خُطَباءُ أمتِكَ الذينَ يقولونَ ما لا يفعلونَ ويقرؤونَ كتابَ اللهِ ولا يعملونَ بِه (مسند احمد: ۱۳۴۲۱)
”میں شب اسراء ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جنکے ہونٹ آگ کی قینچی سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی امت کے وہ خطباء ہیں جو کہتے تھے لیکن عمل نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھتے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کرتے تھے“ _

یہ وہ خطباء ہیں جو الفاظ سے دلوں میں آگ لگاتے اور زور بیان سے اس آگ کو دہکاتے چلے جاتے ہیں، یہ امت کے قلب کو اپنی شعلہ فشانی سے پارہ پارہ کرتے اور دلوں میں نفرت کے جہنم بھڑکاتے ہیں، یہ مناظروں کے دنگل میں جاتے ہیں تو علمی استدلال کے بجائے گالیاں، لطیفے، چٹکلے، حاضر جوابی، بہتان طرازی اور جھوٹے الزامات سے خطابت اور مناظرے کی بازی جیتے ہیں، ان کے مناظرے اور خطابت سے امت ٹکڑے ٹکڑے ہوتی ہے، ہر مناظرے کے بعد سینکڑوں طلاقیں واقع ہوتیں اور کفار کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے __

فن خطابت معیشت کا ایک اہم دروازہ بن گیا ہے جو جتنا بڑا خطیب ہے اس کا معاوضہ بھی اسی قدر زیادہ ہے، یہ خطباء منڈی میں بکتے اور اپنی قیمت لگاتے ہیں، ایسے خطباء کےلئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
مَن تَعَلَّمَ صَرفَ الكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ لَم يَقبَلِ اللَّهُ مِنهُ يَومَ القِيَامَةِ صَرفًا وَلَا عَدِلًا (سنن ابوداؤد: ۵۰۰۶)
”جو شخص لوگوں کو دام میں پھنسانے کیلئے خوش بیانی کا فن سیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے (جرم کی تلافی کیلئے) کوئی قیمت و معاوضہ قبول نہ فرمائے گا“ __

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الأدب المفرد میں خطباء کے حوالے سے عجیب حدیثیں بیان کی ہیں، حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إِنَّكُم فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ سُؤَالُهُ كَثِيرٌ مُعطُوهُ العَمَلُ فِيهِ قَائِدٌ لِلهَوَى وَسَيَأْتِي مِن بَعدِكُم زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ سُوَّالُهُ قَلِيلٌ مُعطُوهُ الهَوَى فِيهِ قَايُدٌ لِلعَمَلِ اعْلَمُوا أَنَّ حُسنَ الهَدِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ خيرٌ من بعض العمل (الادب المفرد: ص ۲۹۳)
”تم ایسے زمانے میں ہو جس میں فقہاء زیادہ اور خطباء تھوڑے ہیں، سوال کرنے والے کم اور (اللہ کی راہ میں مال) دینے والے زیادہ ہیں، اس زمانے میں عمل قائد ہے اور خواہشات نفس اس کے تابع ہیں اور تمہارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء تھوڑے اور خطباء زیادہ، سوال کرنے والے زیادہ اور (اللہ کی راہ میں مال) دینے والے کم ہوں گے، اس زمانے میں خواہشات قائد ہوں گی اور عمل تابع ہوگا (یعنی لوگ خواہشات کے مطابق عمل کریں گے) تم یہ بات جان لو کہ خوش خلقی آخر زمانے میں بعض اعمال سے بہتر ہوگی (کیونکہ خوش خلقی میں بہت سی خیر جمع ہو جاتی ہے اور دوسروں کو بھی نفع پہنچ جاتا ہے اور بعض مرتبہ عمل ایک انفرادی چیز ہوتی ہے، اس سے صرف عمل کرنے والے کو فائدہ پہنچتا ہے)“ __

اس وقت امت مسلمہ کا حال اس حدیث کا مصداق ہے، پوری امت پر خطباء کی حکمرانی ہے، بازار میں سب سے زیادہ کتابیں ”خطبات“ کی فروخت ہوتی ہیں، ہر مذہبی گروہ، دینی یا سیاسی و غیر سیاسی جماعت مجمع اکٹھا کرنے کےلئے زیادہ سے زیادہ خطباء جمع کرتی ہے لہٰذا ہر جماعت میں خطباء کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی ہے، خطیب ہی امت کی کشتی کے کھیون ہار بن گئے ہیں، میڈیا کی سہولتوں نے خطباء کا دائرہ اثر بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا، سب سے بڑا عالم وہ سمجھا جاتا ہے جو سب سے بڑا خطیب، لفظوں کا بازی گر اور زبان درازی میں نقطہ کمال کو چھونے والا ہو، انفاق کرنے والے ہاتھ دن بہ دن کم ہو رہے ہیں اور مانگنے والے ہاتھ دن بہ دن بڑھتے جار ہے ہیں اور مایوس ہاتھ خود کشی کر رہے ہیں _

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمی مشرق سے آئے جو خطیب تھے، دونوں نے کھڑے ہو کر بیان کیا پھر بیٹھ گئے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بیان کیا، مشرق سے آئے ہوئے دونوں خطیبوں کی باتوں سے لوگ متعجب ہوئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:
يا أيها الناسُ! قولوا قولَكم، فإنما تَشقيقُ الكلامِ من الشيطانِ ثم قال رسولُ اللهِ إنَّ من البيانِ لَسحرًا (الادب المفرد: ص ۲۹۵)
”اے لوگو! تم اپنے طریقے پر بات کرو کیونکہ بات میں بات نکالتے چلے جانا شیطان کی طرف سے ہے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں (جو لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں)“ __

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
خَطَبَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَأَكْثَرَ الْكَلَامَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ فِي الْخُطَبِ مِنْ شقاشق الشيطان (الادب المفرد: ص ۲۹۵) ”ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خطبہ دیا اور بہت باتیں کیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلا شبہ خطبہ میں زیادہ کلام کرنا شیطان کی فضولیات میں سے ہے“
حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ:
إنَّ طولَ صلاةِ الرجلِ و قِصَرَ خُطبتِه مَئِنَّةٌ من فقهِه، فأَطيلوا الصلاةَ، و أَقصِروا الخُطبةَ، و إنَّ من البيانِ لَسحرًا (مسلم: ۱۴۳۵)
”نماز کو لمبا پڑھنا اور خطبہ مختصر کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے لہذا تم نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر کرو“
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرت أن أتجوز في القَولِ فَإِنَّ الجواز ھو خير (ابوداؤد: ۵۰۰۸)
”مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مختصر بات کروں کیونکہ مختصر بات ہی خیر ہے“

لیکن تمام دینی گروہوں کا حال یہ ہے کہ نمازیں مختصر مگر خطبے طویل تر بلکہ خطبے کی خاطر بعض اوقات نماز میں بھی تاخیر کر دی جاتی ہے، عشاء سے فجر تک خطابت کی روایت سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل انحراف ہے، امام بخاریؒ نے اپنی کتاب ”ادب المفرد“ کے باب فضول الكلام میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ عجیب حدیث نقل کی ہے:
لَا خَیرَ فِی فُضُولِ الكَلام (الادب المفرد: ص۴۴۳)
”فضول باتیں کرنے میں کوئی خیر نہیں“
اسی باب کی دوسری حدیث ہے فرمایا:
شِرارُ أُمَّتِي الثَّرْثارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ، وخِيارُ أُمَّتِي أحاسِنُهمْ أخلاقًا (الأدب المفرد: ص ۴۲۳)
”میری امت میں سب سے برے لوگ وہ ہیں جو زیادہ بولنے والے ہیں اور منہ بھر بھر کر بولنے والے ہیں اور میری امت میں سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے اچھے ہیں“
اسی لئے بعض روایات میں المتفيهق کی تفسیر ”متکبر“ سے کی گئی ہے (الترمذی: ۲۰۱۸) __

برعظیم پاک و ہند میں فن خطابت اور مناظروں کی تاریخ اگر لکھی جائے تو یہ ایک خونچکاں تاریخ ہوگی، جس کی سطر سطر سے لہو کے قطرے ٹپکیں گے، یہ ایک وسیع موضوع ہے اور تفصیل کا موقع نہیں، خطیب یہ بھول جاتا ہے کہ خیر کی گفتگو تین قسم کی ہوتی ہے جس کا حدیث میں ذکر ہوا ہے اس کے سوا خطابت محض خیال آرائی ، لفظ آرائی، حاشیہ آرائی، شعلہ فشانی اور شیریں بیانی کے سوا کچھ نہیں: کُلُّ كَلامِ ابنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ أَو نَهَى عَن مُنكَرٍ أَو ذِکرُ اللهِ (الترمذی: ۲۴۱۲) _

خطباء، علم، معرفت، ہدایت، نصیحت، عبرت، موعظت، رحمت مغفرت کا سرچشمہ بننے کے بجائے نفرت، عداوت، طغیان، عصیان اور جذبات کا منبع بن جاتے ہیں کیونکہ وہ زمین پر نام آوری کی خاطر گم نامی کی زندگی پسند نہیں کرتے، ارشاد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
كُونُوا يَنَابِيعَ العِلمِ مَصَابِيحَ الهُدَى أَحَلَاسَ البُيُوتِ سُرُجَ اللَّيلِ جُدُدَ القُلُوبِ خُلِقَانَ الثَّيَابِ تُعرَفُونَ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ وَتَحْفَونَ عَلَى أَهل الأرضِ (سنن دارمی: ۲۶۲)
”علم کا سر چشمہ بنو اور ہدایت کی شمع، گھر کا ٹاٹ بنو اور رات کا چراغ، ہموار دل اور کہنہ پوش بنو، اس طرح آسمان والوں میں تو پہچان لئے جاؤ گے اور زمین والوں سے پوشیدہ رہوگے“ _

خطابت کا مقصد محض اپنے مسلمان بھائی کی اہانت، تمسخر، استہزاء، تضحیک اور تذلیل کے سوا کچھ نہیں ہے، ارشاد رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
بحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أنْ يَحْقِرَ أخاهُ المُسْلِمَ (مسلم: ۲۵۶۴)
”ایک آدمی کے شر کےلئے اتناہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی اہانت کرے“
روز خطابت کے باعث اکثر خطباء اہل ایمان اور ملت اسلامیہ کے تباہ و برباد ہونے کا مرثیہ سناتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا جب تم کسی کو یہ کہتے سنو کہ لوگ تو برباد ہوگئے تو سمجھ لو کہ سب سے زیادہ برباد ہونے والا وہ خود ہے يقول هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهلَكُهُم (مسلم: ۷۵۹) __

رسول امت صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو اور کفار کو دین کے دائرے میں داخل کرنے کےلئے آئے تھے لیکن آج یہ موحدین، مسلمین اور دوسرے مسالک اور مکاتب فکر والوں کو کلامی اور جزوی اختلافات پر دین کے دائرے سے نکالنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور جیسے ہی اجتماعی مفادات کا معاملہ سامنے آتا ہے تو یہ کفر کے تمام فتوے بھول کر شیر وشکر ہو جاتے ہیں، کل تک جو مشرک تھے وہی ان کے بلا مقابلہ سربراہ منتخب ہو جاتے ہیں اور تمام اختلافات فروعی اختلافات میں بدل جاتے ہیں، امت کے سامنے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر فتح کے نشان بناتے ہیں اور جب مشکل وقت گزر جاتا ہے تو پھر وہی آموختہ دہراتے ہیں _

مناظرے کا مقصد اگر تحقیق حق ہے تو یہ علماء کے درمیان ہونا چاہیے، عوام کی شرکت بے معنی بات ہے، مناظرے عوام کے سامنے ہوں تو گفتگو عربی زبان میں کی جائے تاکہ خطابت اپنی موت آپ مر جائے یا مناظرے تحریری ہوں مگر عملاً ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ مناظرے میں شریک ہر فریق خود کو ”الحق“ اور دوسرے کو ”الباطل“ سمجھتا ہے مگر حالات کے تقاضوں کے تحت اسی باطل فریق سے اتحاد بھی کر لیتا ہے، اگر یہ مناظر اور خطباء ”احیاء علوم الدین“ میں مناظروں سے متعلق امام غزالیؒ کی بحث پڑھ لیتے اور امام ابو حنیفہ ؒ کی انتقال سے پہلے مناظرے کے سلسلے میں بیٹے کو نصیحت پڑھ لیتے تو کبھی مناظرے نہ کرتے، امام ابو حنیفہ ؒنے اپنے بیٹے حماد کو وصیت کی کہ بیٹے! مناظرہ نہ کرنا، بیٹے نے پوچھا بابا! آپ زندگی بھر مناظرے کرتے رہے ممانعت کا حکم کیوں؟ فرمایا ہم جب مناظرے کےلئے نکلتے تھے تو نیت یہ ہوتی تھی کہ ہمارے مخالف کے منہ سے حق نکلے اور ہم فورا تسلیم کرلیں، تم مناظرے کےلئے نکلو گے تو یہ مقصد لے کر چلو گے کہ تمہارے مخالف کے منہ سے ہمیشہ باطل نکلے اور تم ہی غالب رہو _

عہد حاضر کے مناظروں کی اس سے بہترین منظر کشی ممکن نہیں عوام کا مناظروں سے کیا تعلق وہ تو فیصلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے، وہ آن پڑھ ہیں، ان خطباء کے فیضان خطابت سے فیض پانے والے قرآن خواں، مجاہد، شہید، مالدار بھی دین کے کام اخلاص کے بجائے مختلف مادی، افادی، مقاصد کے تحت انجام دیتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں بھی خسارہ اٹھاتے ہیں اور آخرت میں بھی گھاٹے میں رہیں گے، اس قسم کے نفوس کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہی وہ لوگ ہیں کہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترا، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
أنَّ اللَّهَ تبارَك وتعالى إذا كانَ يومُ القيامةِ ينزلُ إلى العبادِ ليقضيَ بينَهم وَكلُّ أمَّةٍ جاثيةٌ فأوَّلُ من يدعو بِه رجلٌ جمعَ القرآنَ ورجلٌ يقتَتِلُ في سبيلِ اللهِ ورجلٌ كثيرُ المالِ فيقولُ اللَّهُ للقارئِ ألم أعلِّمْكَ ما أنزلتُ علَى رسولي قالَ بلى يا ربِّ قالَ فماذا عملتَ فيما عُلِّمتَ قالَ كنتُ أقومُ بِه آناءَ اللَّيلِ وآناءَ النَّهارِ فيقولُ اللَّهُ لَه كذَبتَ وتقولُ الملائِكةُ كذَبتَ ويقولُ له اللَّهُ بل أردتَ أن يقالَ فلانٌ قارئٌ فقد قيلَ ذلكَ ويؤتى بصاحبِ المالِ فيقولُ اللَّهُ ألم أوسِّعْ عليكَ حتَّى لم أدعْكَ تحتاجُ إلى أحدٍ قالَ بلى يا ربِّ قالَ فماذا عمِلتَ فيما آتيتُك قالَ كنتُ أصلُ الرَّحمَ وأتصدَّقُ فيقولُ اللَّهُ لَه كذَبتَ وتقولُ الملائِكةُ لَه كذَبتَ ويقولُ اللَّهُ بل أردتَ أن يقالَ فلانٌ جَوادٌ وقد قيلَ ذلكَ ويُؤتى بالَّذي قُتلَ في سبيلِ اللهِ فيقولُ اللَّهُ لَه في ماذا قُتلتَ فيقولُ أُمِرتُ بالجِهادِ في سبيلِك فقاتلتُ حتَّى قُتلتُ فيقولُ اللَّهُ لَه كذبتَ وتقولُ لَه الملائِكةُ كذبتَ ويقولُ اللَّهُ بل أردتَ أن يقالَ فلانٌ جريءٌ فقد قيلَ ذلكَ ثمَّ ضربَ رسولُ اللهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ علَى رُكبتي فقالَ يا أبا هريرةَ أولئِك الثَّلاثةُ أوَّلُ خلقِ اللهِ تُسعَّرُ بِهمُ النَّارُ يومَ القيامةِ (الترمذي: ۲۳۸۲)
”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے پہلے جن لوگوں کو بلائے گا ان میں ایک تو وہ ہوگا جس نے قرآن خوب پڑھا تھا، دوسرا وہ جو راہ خدا میں شہید ہوا اور تیسرا وہ جو مالدار تھا، قاری سے اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ کیا میں نے تجھے قرآن نہیں سکھایا تھا تو نے اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا تھا؟ وہ جواب دے گا بے شک قرآن سکھایا تھا میرے مولا میں رات دن اسے نمازوں میں پڑھتا رہا، ارشاد ہوگا تم جھوٹ بولتے ہو اور فرشتے بھی یہی کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو اللہ تعالیٰ کہیں گے تمہاری نیت یہ تھی کہ لوگ تمہیں قاری کہیں اور دنیا میں تجھے یہ کہا جا چکا پھر مالدار حاضر کیا جائے گا، سوال ہوگا کیا میں نے تجھے اس قدر مالی کشادگی نہ دی تھی کہ تو کسی کا محتاج نہ رہے، میری اس نوازش کے بعد تیرا طرز عمل کیا رہا؟ وہ کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا اور کار خیر میں مال صرف کرتا تھا جواب ملے گا تیری خواہش تو محض یہ تھی کہ لوگ تجھے سخی کہیں سو تجھے کہا جا چکا، پھر شہید کو پیش کیا جائے گا اور سوال ہوگا تم کس مقصد کےلئے قتل ہوئے؟ کہے گا کہ مجھے آپ کی راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا لہذا میں نے جنگ کی اور مارا گیا، جواب ملے گا تو دروغ گوئی کرتا ہے اور فرشتے بھی اس کو کاذب کہیں گے، ارشاد ہوگا تیرا مقصد تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے جو کہا جا چکا یہ فرمانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا یہی تین قسم کے لوگ وہ پہلی مخلوق ہوں گے جن پر آتش و دوزخ بھڑکے گی“ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے‏:
تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ قَالَ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهُ قَالَ الْقُرَّاءُ ‏ ‏الْمُرَاءُونَ ‏‏بِأَعْمَالِهِمْ (الترمذی: ۲۳۸۳)
”جب الحزن سے اللہ تعالی کی پناہ مانگو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ جب حزن کیا چیز ہے؟ فرمایا جہنم کا ایک طبقہ ہے جس سے خود دوزخ ہر روز سو بار پناہ مانگتی ہے، پوچھا گیا کہ اس میں کون جائے گا؟ فرمایا ریاء کار قراء“، جب دین کاروبار، خطابت اور مال کمانے، عمارتیں بنانے اور سجانے کا ذریعہ بن جائے تو اس کا انجام اِس دنیا اور اُس دنیا میں یہی ہے _

Address

Rajouri Jammu&Kashmir
Jammu&Kashmir
185132

Telephone

+919622149603

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Javaid Iqbal Alimi Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Javaid Iqbal Alimi Official:

Share