Life in motion

Life in motion Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Life in motion, Photographer, Rosemead Street, Kingston upon Hull.

13/03/2026

Just me, a bench, and the beauty of Europe. 🌿
Travel teaches you that sometimes the smallest moments become the best memories.

12/03/2026

یورپ میں مسافر کی افطاری 🌙پردیس میں بھی رمضان کی برکتیں نصیب ہو رہی ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ دور رہ کر بھی روزہ اور افطار کی سعادت ملی۔ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں 🤲

03/03/2026

🌍✨ Living my best life in Europe — exploring new places, new cultures, and new adventures every day ✈️💙
Chasing dreams across the continent and making memories that last forever 🚀
one

13/01/2026

06/02/2020
27/05/2019

افلاطون اپنے اُستاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا۔‘‘
سقراط نے مسکرا کر پوچھا ’’وہ کیا کہہ رہا تھا۔‘‘
افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ’’آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا….....‘‘
سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا ’’تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر پرکھو، اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے۔‘‘
افلاطون نے عرض کیا ’’یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے؟‘‘
سقراط بولا ’’کیا تمھیں یقین ہے تم مجھے جو بات بتانے لگے ہو یہ بات سوفیصد سچ ہے؟‘‘
افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا،
سقراط نے ہنس کر کہا ’’پھر یہ بات بتانے کا تمھیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟‘‘
افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا،
سقراط نے کہا ’’یہ پہلی کسوٹی تھی، ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔ ’’مجھے تم جو بات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟‘‘
افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا۔ "جی! نہیں یہ بُری بات ہے۔‘‘
سقراط نے مسکرا کر کہا ’’کیا تم یہ سمجھتے ہو تمھیں اپنے اُستاد کو بُری بات بتانی چاہیے؟‘‘
افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا،
سقراط بولا ’’گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی۔ ‘‘
افلاطون خاموش رہا،
سقراط نے ذرا سا رک کر کہا ’’اور آخری کسوٹی، یہ بتائو وہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟‘‘
افلاطون نے انکار میں سرہلایا اور عرض کیا ’’یا اُستاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں۔‘‘
سقراط نے ہنس کر کہا ’’اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔
سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے چوبیس سو سال قبل وضع کردیے تھے، سقراط کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے۔ وہ گفتگو سے قبل بات کو تین کسوٹیوں پر پرکھتے تھے، کیا یہ بات سو فیصد درست ہے، کیا یہ بات اچھی ہے اور کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید ہے؟ اگر وہ بات تینوں کسوٹیوں پر پوری اترتی تھی،تو وہ بے دھڑک بات کردیتے تھے اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا پھر اس میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا،تو وہ خاموش ہوجاتے تھے۔

Address

Rosemead Street
Kingston Upon Hull

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Life in motion posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category