27/08/2026
لوریاں جل گئیں
ڈاکٹر ابرار عمر
مائیں ابھی
زچگی کی اذیت سے
پوری طرح لوٹی بھی نہ تھیں
اور ان کی گود سے مستقبل اٹھا کر
آگ کے حوالے کر دیا گیا
نو مہینے جنہوں نے
اپنے لہو میں ایک دعا کی پرورش کی
ان کے ہاتھوں میں صرف کپڑے
اور خالی گود ہے
باپ جو دروازے کے اُس پار
پہلی آواز کے منتظر تھے
انہیں خبر ملی کہ آواز نہیں ہے
بچوں کی ہڈیاں تک آگ نے واپس نہ کیں
جیسے اس شہر کے نظام نے
ثبوت بھی جلا ڈالے ہوں
کہتے ہیں: موت لکھی ہوئی تھی
مگر آگ کس نے لکھی تھی؟
بند راستے بے بس حفاظتی نظام
غافل آنکھیں کس تقدیر کا متن تھے؟
زندگی کے گرد آتش کدہ کس نے بنایا؟
آگ بجھ گئ
مگر ہر ماں کے سینے میں
ایک نرسری ہمیشہ جلتی رہے گی
فائلیں کھلیں گی
کمیٹیاں بیٹھیں گی
بیان چھپیں گے
لفظ ’’تحقیقات‘‘ پھر کسی سرکاری میز پر
سکون سے سو جائے گا
حقیقت جل جاۓ گی اور بیانیہ زندہ رہے گا
لاشیں غائب ہو جاتی ہیں
وضاحتیں سلامت رہتی ہیں
روایت یہی ہے
کہ معصوم راکھ ہوتے رہیں گے
مگراقتدار اپنے محفوظ ایوانوں میں زندہ رہے گا