Janisar

Janisar Hi everyone please � Follow My new

بلوچستان کو تقسیم نہیں، اتحاد کی ضرورت ہےتحریر وکالم نگار احسان خان کاکڑغلط تاریخی حوالے اور اشتعال انگیز بیانات کبھی بھ...
02/06/2026

بلوچستان کو تقسیم نہیں، اتحاد کی ضرورت ہے

تحریر وکالم نگار احسان خان کاکڑ

غلط تاریخی حوالے اور اشتعال انگیز بیانات کبھی بھی معاشروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے، بلکہ یہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔ بلوچستان ہمیشہ سے مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور روایات کا ایک حسین گلدستہ رہا ہے۔ یہاں بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی، سندھی اور دیگر اقوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ اختلافات بھی رہے، دشمنوں نے ان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش بھی کی، مگر وہ ہمیشہ ناکام رہے۔ کیونکہ ان تمام تر حالات کے باوجود اس دھرتی کے لوگوں کے دل کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی اصل پہچان محبت، رواداری اور بھائی چارہ ہے۔

گزشتہ دنوں بعض سیاسی بیانات اور تقاریر کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں نئی بحث نے جنم لیا۔ کچھ لوگوں نے ان بیانات کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے بلوچستان کے عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سیاسی رہنما اپنے نظریات اور منشور کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، اور یہ ان کا جمہوری حق ہے۔ بعض جماعتوں کے منشور دہائیوں سے ایک جیسے ہیں، اس لیے ان کے نعروں یا مطالبات کو اچانک پیدا ہونے والی حقیقت سمجھنا درست نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ عام بلوچ اور پشتون کیا چاہتے ہیں؟ اگر آج بلوچستان کے عوام سے پوچھا جائے تو اکثریت نفرت، تقسیم اور تنازعے کی سیاست کو مسترد کرے گی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، نوجوانوں کو روزگار حاصل ہو، ہسپتالوں میں علاج کی سہولت ہو اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔ عوام کی ترجیحات بالکل واضح ہیں، لیکن بدقسمتی سے اکثر سیاسی بحثیں ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔

بلوچستان اس وقت سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ہر قومیت کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ غربت یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا شخص بلوچ ہے یا پشتون، ہزارہ ہے یا پنجابی۔ بھوک، محرومی اور بے روزگاری سب کے لیے یکساں اذیت کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدہ مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بلوچستان کی تاریخ میں بلوچ اور پشتون ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ رشتے، کاروبار، دوستی اور مشترکہ مفادات دونوں اقوام کو ایک مضبوط بندھن میں جوڑتے ہیں۔ چند سیاسی بیانات یا وقتی اختلافات اس تاریخی تعلق کو کمزور نہیں کر سکتے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اشتعال انگیزی کے بجائے برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ بلوچستان کی ترقی کا راستہ اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے، انتشار سے نہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی، سماجی اور قبائلی قیادت نوجوانوں کو نفرت کے بجائے مثبت سوچ دے، انہیں تعلیم، ہنر اور ترقی کی طرف راغب کرے، اور صوبے کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کرے۔ میں ان تمام بزرگوں، نوجوانوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو مشکل حالات میں بھی یکجہتی، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہی لوگ بلوچستان کے اصل سفیر ہیں، اور یہی وہ آوازیں ہیں جو ہمارے مشترکہ مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔

بلوچستان ہم سب کا گھر ہے۔ اس گھر کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں، سیاست کو نفرت کا ذریعہ نہ بنائیں، اور اپنے مشترکہ مفادات کو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر رکھیں۔ اتحاد، محبت اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو ایک روشن، پُرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے

اسلحہ کلچر اور ہمارا موجودہ معاشرہ: حکومت کی ذمہ داریبلوچستان اور خیبر پختونخواہ آج کل ایک طرف دہشت گردی کے عفریت کا شکا...
01/06/2026

اسلحہ کلچر اور ہمارا موجودہ معاشرہ: حکومت کی ذمہ داری

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ آج کل ایک طرف دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہیں، تو دوسری طرف یہاں کے باشندے قومی اور خاندانی دشمنی کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ دہشت گردی ایک ناسور ہے، جس کے خلاف عوام اور پاک فوج کے جوان مل کر دیدہ دلیری سے نبرد آزما ہیں۔ یہ جنگ ان شاء اللہ پاک فوج اور ریاستی ادارے جیتیں گے۔

اب آتے ہیں قومی لڑائی اور خاندانی دشمنی کے خاتمے کی طرف۔ یہ کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟ عوامی رائے کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اس کی روک تھام حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کہ حکومت اس جانب بہت کم توجہ دیتی ہے۔ ہر کوئی جب گھر سے نکلتا ہے تو گویا لشکر کے ساتھ بازار میں ایک ہولناک روپ اختیار کر لیتا ہے۔

بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں سابقہ افغان حکومت کے تربیت یافتہ جنگجو سرِعام علاقے میں گھومتے پھرتے ہیں، اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ یہ سابقہ جنگجو کس قبائلی فرد یا افراد کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ بات اسلام آباد سے لے کر بلوچستان حکومت تک معلوم ہے، اور ہمارے ایم پی اے اور ایم این اے بھی جانتے ہیں کہ اگر ان سابق افغان آرمی کے افراد کو پاکستان بدر کیا جائے تو علاقے کے امن پسند عوام کو امن و امان میسر آ سکتا ہے۔

کل کے واقعے سے لے کر جو قلعہ عبداللہ میں رونما ہوا ہے، اس طرح کے واقعات پورے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں آئے روز ہوتے ہیں۔ آخر کب تک وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیں گی؟ کب تک بے گناہ عوام دوسروں کے ظلم کا شکار بنتے رہیں گے؟

ہاں، یہ اسلحہ کلچر اور لشکر کسی فردِ واحد کی خواہش ہو سکتا ہے، مگر 98 فیصد عوام اس کلچر سے بیزار اور لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ پورے ملک کے عوام ریاست سے اور ریاستی اداروں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ پورے ملک میں بلا رنگ و نسل گھر گھر تلاشی مہم شروع کی جائے، اور جس جس کے پاس غیر قانونی اور خطرناک ہتھیار موجود ہیں، فوراً بحقِ سرکار ضبط کیے جائیں۔

پہلے لوگ چھپ کر، مجبوری کے تحت گھر میں اسلحہ رکھتے تھے، اب لوگ اتنے پراُفلّو ہو چکے ہیں کہ ریاستی اداروں کے سامنے اسلحہ کی نمائش کرتے گزرتے ہیں، مگر مجال ہے کہ انتظامیہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ کئی بار حکومت دفعہ 144 نافذ کرتی ہے، مگر ہمارے سرکش لوگ، بدمعاش طبقہ، اسے بندوق کی نوک پر رکھ دیتا ہے اور دفعہ 144 کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان بدمعاشوں اور سرکشوں کی سرپرستی کوئی نہ کوئی ضرور کر رہا ہے، تب ہی تو یہ لوگ اتنی بہادری اور دلیری سے سرعام اسلحہ کی نمائش کرتے ہیں، اور وہ بھی کھلے عام، پاکستان اور ریاستِ پاکستان کے اعلان کے باوجود۔

اب یہ غنڈہ گردی، بدمعاشی اور سرکشی ریاست مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ سب سے پہلے سرعام اسلحہ نمائش کو روکا جانا چاہیے۔ ہر صورت میں ان عناصر کو روکنا ہوگا، اور ان عناصر کو حکومت کی عملداری اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، کیونکہ یہ چند مٹھی بھر عناصر پورے معاشرے کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ حکومت معاشرے کو ان کی چنگل سے آزادی دلائے، تب ہی پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، ورنہ ترقی صرف ایک خواب ہی رہ جائے گی۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فوج ہمیشہ زندہ باد

اسرائیل کی بدمعاشی، امریکہ اور بھارت کی پشت پناہیبقلم: ڈاکٹر احسان خان کاکڑیہ حقیقت اب زیادہ دھندلی نہیں رہی کہ اسرائیل،...
31/05/2026

اسرائیل کی بدمعاشی، امریکہ اور بھارت کی پشت پناہی
بقلم: ڈاکٹر احسان خان کاکڑ

یہ حقیقت اب زیادہ دھندلی نہیں رہی کہ اسرائیل، امریکہ اور بھارت کی باہمی پشت پناہی نے خطے میں ایک خطرناک فضا پیدا کر دی ہے۔ جب اسرائیل ایران، امریکہ جنگ میں کچھ حاصل نہ کر سکا تو اس نے اپنے پلان بی پر عمل شروع کیا، لیکن ٹرمپ نے سعودی عرب، چین، پاکستان اور ترکیہ کی مدد سے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ نتن یاہو کی نیت یہ تھی کہ امریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی آڑ میں ناجائز اسرائیلی ریاست کو مسلم ممالک سے تسلیم کرایا جائے، اور یہ سب ابراہیمی کارڈ کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔

اب اسرائیل کی بدمعاشی دنیا کے سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔ نتن یاہو مصر اور ترکیہ پر براہِ راست حملہ کرے گا، اور پاکستان پر بھارت کے ذریعے حملہ آور ہونے کی کوشش کی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے یا ناممکن؟ ممکن اس لیے سمجھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ آئندہ تین برس کے لیے صدر بننا چاہتا ہے، اور اپنے مفاد کے لیے یہودی ریاست کو کھلی چھوٹ دے سکتا ہے۔ اسی دوران نتن یاہو غریب مسلم ممالک پر دباؤ بڑھا کر اسرائیل کو تسلیم کرانے پر زور دے گا۔

اور ناممکن اس لیے ہے کہ اس بار اگر پاکستان پر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو بھارت اور اسرائیل کو ایسا شدید جواب ملے گا کہ وہ اس حملے کا تصور بھی نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان شدت سے انتظار کر رہا ہے کہ اگر اسرائیل اور بھارت مل کر کوئی حملہ کریں تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفینس فورسز، آرمی چیف لیفٹننٹ جنرل سید حافظ عاصم منیر صاحب نے کور کمانڈر کانفرنس اور بلوچستان کے ضلع ژوب میں اگلے مورچوں کے دورے کے دوران واضح طور پر فرمایا کہ اب جنگ دشمن ملک کرے گا اور اختتام پاکستان کرے گا۔

یہ اعلان دشمنوں کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان اگر جواب دے گا تو بہت گہرائی میں دے گا۔ دوسری جانب انڈیا میں خالصتان اور افغانستان میں جنوبی ترکستان آزاد ممالک کے طور پر دنیا میں نمودار ہوں گے، انشاءاللہ۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے: جو فصل بوئی جاتی ہے، وہی کاٹی جاتی ہے۔ افغانستان اور ہندوستان نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو الگ کرنے کی کوشش کی، مگر وہ بری طرح ناکام رہے۔ اب قدرت اپنا فیصلہ کرے گی۔

ان دونوں ملکوں نے دوستی اور دشمنی کی آڑ میں پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب نے واضح کہا ہے کہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی چن چن کر جہنم واصل کیا جائے گا، چاہے وہ پاکستان کے اندر سے ہوں یا باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہوں۔

انشاءاللہ اس تمام سیناریو میں جیت اسلام اور پاکستان کی ہوگی۔ اسرائیل، بھارت اور امریکہ مل کر ایران سے اپنی شکست کا بدلہ اب پراکسی وار کے ذریعے لینے کی کوشش کریں گے، لیکن پاکستان ایک مضبوط حقیقت ہے، اور قوموں کی تاریخ میں وہی ملک سرخرو ہوتے ہیں جو اپنے وطن، اپنے نظریے اور اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فورسز زندہ باد

امریکہ اسرائیل بھارت  گٹھ جوڑ اور پاکستان کا قائدانہ کردار تحریر  ڈاکٹر احسان خان کاکڑ جب سے امریکہ اسرائیل  اور ایران  ...
28/05/2026

امریکہ اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ
اور پاکستان کا قائدانہ کردار
تحریر ڈاکٹر احسان خان کاکڑ
جب سے امریکہ اسرائیل اور ایران حالت جنگ میں ہے دنیا پریشان ہیں کہ اس جنگ کو کیسی روک دی جائے کیونکہ پوری دنیا کی معیشت تباہی کا شکار ہے اس جنگ نے معشیت کو مزید تتر بتر کردیا امریکی صدر ٹرمپ ویسے ہمارے وزیراعظم اور فلیڈ مارشل کی تعریف نہیں کررہا بلکہ اسکے پھچے کچھ خفیہ راز چھپی ہوئی تھی اور وہ راز پاکستان کو ابراھم کارڈ کاحصہ بننا تھا اسکے ذریعے اسرائیل کےوجود کوتسلیم کرنا تھا اس تمام تر سازش اور منصوبے میں افغانستان بھارت کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل بھی شامل ہیں پاکستان کو کبھی ائ ایم ایف کے ذریعے بلیک میل کرنا کھبی افغانستان سے دراندی اور وہاں سے اچانک پاکستان پرحملہ کرنا توکھبی ہندوستان کے ذریعے پاکستان کو ڈرا دھمکا رہا ہے کہ ہمارا کہنا مان لیا جائے ورنہ بھارت اپ پرحملہ کردےگا وزغیرہ وغیرہ پاکستان ہر حوالے سے ہرلحاظ سےمختلف طریقوں سے کنفوز کرنا حالانکہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جسکی امن پسندی سے ہمارے دشمن ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں تو جب پاکستان نے امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ میں ثالث کا کردار ادا کیا توایک جانب دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی دوسری جانب پاکستان مخالف ممالک میں صف ماتم بچھ گئی سوشل میڈیا فرنٹ میڈیا میں پاکستان کی فلیڈ مارشل چیف آف ڈیفینس فورسز ارمی چیف جنرل عاصم مینر صاحب اور وزیراعظم پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کی داد دے رہے ہیں تویہ چیز دشمنوں سے ہضم نہیں ہوتا تو اب امریکہ بہادر نے نیا شوشا چھوڑ دیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر یےگا ہمارے دشمن طرح طرح کے پروپیگنڈہ مفروضے بیان کررہے ہیں جبکہ پاکستان کا نوقف واضح طور پر پوری دنیا کو معلوم ہے کہ جب تک فلسطین ایک اذاد اور خود مختار ملک کے طور پر آذادی حاصل نہیں کریگا پاکستان اپنے بانی قائد رہبر معظم قائد اعظم محمد علی جناح کے بات پر اج بھی قائم ودائم ہے اور رہےگا پاکستان کے غیور عوام اس بات کونوٹ فرما لیں بلاوجہ ہمارے فلیڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کے خلاف مہم جوئ سےباز رہے دشمنوں کے ادوھوری کام کو پورا مت کرنا دوسری جانب لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں امن و امان کیوں قائم نہیں رہتا تواسکا جواب بلکل سادہ سی ہے جب تک ہمارے ملک اسلحہ کلچر کی روک تھام نہیں ہو گا یہ سوال سوال ہی رہےگا جب بھی ریاست انکے خلاف پوری قوت سے آپریشن کرتے ہیں تو لوگ بایر نکل اتے ہیں اور احجتاج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سردار ،،،ملک،،،وڈیرہ، ،،وغیرہ کے خلاف ہرگز کاروائ نہیں کرنے دی جائے گی کیا ان اسلحہ بردار اور مسلح افراد کو ریاست نےکہا کہ تم لوگ خاندانی لڑائ پرامادہ ہوجائے حالانکہ یہ قبائلی جنگ جھگڑے اج سے 1500سال پہلے بھی تھے اور اج بھی ہے ریاست کھبی بھی عوام کو مسلحہ ہونے کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ یہ فیصلہ ان لوگوں کی انفاردی فیصلہ ہے عوام کو چاہئے کہ وہ ہر معاملے کو ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اپنے بہادر سپوت پاک فورسز کے جوان اور انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملک کی ترقی دفاع حفاظت اور سالمیت میں بھر پور کردار ادا کریں کسی بھی من گھڑت پروپیگنڈے کا شکار نہ بنے اور یہ بات بھی ذہین نشین رکھ دے کہ پاکستان امریکہ کے دباو میں آکر یہودی ریاست کوتسلیم کرلیں پاکستان ایک اذاد اور خود مختار ایٹمی طاقت اور ملک ہے پاکستان اپنے مفاد کے حوالے سے ہر فیصلے کرنے میں آذاد ہے پاکستان اپنی سلامتی خودمختاری کے حوالے سے کسی سے مشورے کی پابند نہیں ہے پاکستان بہتر طور جانتا ہے کہ کب اور کہا کس وقت کونسا فیصلہ کرنا ہے پاکستان وہی کریےگا جوہمارے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوگا پاکستان کی سلامتی حفاظت اور سالمیت اولین ترجیح ہے پاکستان اپنے دشمنوں کو ایسے عبرت ناک موت دیئنگے کہ موت بھی کانپ جایئنگے
پاکستان ہمیشہ ذندہ باد
پاک فورسز اور انٹیلیجنس ادارے ذندہ باد

27/05/2026

I got over 10 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

یوم تکبیر عزم اور استحکام  کادن 199828مئی کو جب پاکستان نے یکے بعد دیگرے 6ایٹم بم کا تجربہ کیا تو ہمارے دشمنوں  میں  خوف...
27/05/2026

یوم تکبیر عزم اور استحکام کادن
1998
28مئی کو جب پاکستان نے یکے بعد دیگرے 6ایٹم بم کا تجربہ کیا تو ہمارے دشمنوں میں خوف و ہراس پیھل گیا وہی خوف اج تک ہمارے بزدل اور مکار دشمنوں کے دل میں موجود ہیں ہمارے دشمنوں نے کئی حربے استعمال کئے ہمارے ملک میں انتشار بدامنی پیھلانے کی ہر کوشش کی مگراللہ تعالی کا خاص کرم ہے جو کہ کوئ بھی سازش کامیاب نہیں ہوئ اس سازش میں بیرونی قوتوں اور ہمارے اپنے بھی اس سازش میں ملوث پائے گئے پاکستان دنیا کے نقشے پر وجود رکھنا پھر ایٹمی طاقت بننا معجزے سے کم نہیں ہے یہی وہ قوت اور طاقت ہے
جودشمن خوفزدہ ہیں اگر خدانخواستہ پاکستان ایٹم بم نہ بناتا تو آج ہمارا حشر باقی ملکوں کی طرح ہوتا یہی دشمن عناصر نے نائن الیون کو بہانہ بنایا پھر 20سال تک ہمارے پڑوس میں دن رات ایک کرکے پاکستان کے ایٹمی راز پرحملہ کرتے لیکن اس میں ناکام ونامراد ہوئے پھر وہی دشمنوں نے 2025 6مئی،،7مئی،،8مئی،،9اور 10کو پھر پاکستان پر حملہ اور ہوئے پاکستان کی شرافت
کوللکارا اس جنگ میں بھارت اکیلا نہیں تھا اسکے پھچے پوری کفری ممالک کے طاقت اور قوت ایک ساتھ مل کر لڑرہے تھے مگر اس معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران ایک بار پھر اللہ تعالی نے پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کیا دشمن کے سندور کو آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے کچل کر رکھ دیا اس عظیم معرکہ کے عظیم جرنیل اور سپہ سالار فلیڈ مارشل چیف آف ڈیفینس فورسز لفٹننٹ جنرل سید حافظ عاصم منیر صاحب پاک فضائیہ کے سربراہ بابرسندھو اور نیول چیف نے پوری دنیا کے طاقتور کو پاکستان کی طاقت اور قوت دیکھایا اج کا دن ہم کویہی یاد دلاتا ہے کہ جب تک ہم آپس میں متحد منظم متحرک ہونگے ہم اپنے پاک فوج اور انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے گے اپنی سبز ہلالی پرچم کے سایئے تلے متحد ہو نگے توکسی بھی دشمن کوجرت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے طرف میلی آنکھ سے دیکھے باقی جوفتنہ الخوارج اور فتنہ الہنووستان ملک میں دشت گردی کررہی ہے انشاءاللہ انکا بہت ہی عبرت ناک اور درد ناک ہوگا ہمارے بہادر فورسز اور انٹیلیجنس ادارے دشمن کوایسے موت دیئنگے کہ موت بھی کانپ جایئنگے
میرے تمام پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے گذارش ہے کہ وہ پاکستان کے خاطر ایک ہوجائے کسی بھی قوم پرستی جوصوبائیت قومیت لسانیت فرقہ واریت تعصب پیھلانے والے عناصر کے بھکاوے میں آئے
پاکستان ہمیشہ ذندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

کوئٹہ بم دھماکہ  پاکستان پرحملہ ہے جوانان پاکستان نظر یاتی جوانان پاکستان نظر یاتی  بلوچستان کے صدر ڈاکٹر احسان اللہ خان...
25/05/2026

کوئٹہ بم دھماکہ پاکستان پرحملہ ہے جوانان پاکستان نظر یاتی
جوانان پاکستان نظر یاتی بلوچستان کے صدر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ صوبہ سندھ کے صدر محمد ابراھیم خان منگل صوبہ خیبر پختونخواہ کے صدر عاشق علی خان پنجاب کے آرگنائزرعلی رحمان بٹ ضلع پشین کے صدر عبدالجبار پھٹان ضلع چمن کے صدر محمد حنیف خان اچکزئی نذیر خان ساحل خلیل الرحمان باقی اضلاع کے صدرور نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ کوئٹہ دھماکہ بلوچستان نہیں بلکہ پاکستان پرحملہ تھا فتنہ الخوارج فتنہ الہنووستان درندگی کی مثال قائم کی بزدل دشمن نے معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جو ہمارے دشمنوں کا پہچان ہے جوانان پاکستان نظر یاتی اس بزدلانہ دشت گرد ی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں دشت گردوں کاکوئ دین اسلام نہیں ہے یہ لوگ ہندوستان اسرائیل کے اشارے پر ملک میں انتشار بدامنی پیھلانے سے گریز نہیں کرتے ہیں لیکن ہمارے بہادر فورسز اور انٹیلیجنس ادارے اپنے فرائض سے غافل نہیں ہے دشت گردوں کو اسکا حساب دینا ہوگا پوری قوم کو اتفاق اور اتحاد کی سخت ضرورت ہے ہماری اتفاق اور اتحاد ہی دشمن عناصر کی شکست ہے جوانان پاکستان نظر یاتی پاک فورسز کے شہیدا اور زخمیوں کے لئے دعاگو ہے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفینس فورسز ارمی چیف جنرل عاصم مینر کواب بلا امتیاز پورے ملک میں فتنہ الخوارج فتنہ الہنووستان
اور انکے سہولت کاروں کے خلاف سخت اپریشن کریں قوم اپکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہے

کوئٹہ بم دھماکہ پاکستان پرحملہ ہے‘ ڈاکٹر احسان کاکڑفتنہ الخوارج فتنہ الہنووستان درندگی کی مثال قائم کی بزدل دشمن نے معصو...
25/05/2026

کوئٹہ بم دھماکہ پاکستان پرحملہ ہے‘ ڈاکٹر احسان کاکڑ

فتنہ الخوارج فتنہ الہنووستان درندگی کی مثال قائم کی بزدل دشمن نے معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا‘صوبائی صدر جوانان پاکستان نظریاتی بلوچستان

کوئٹہ()جوانان پاکستان نظر یاتی بلوچستان کے صدر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑاپنے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ کوئٹہ دھماکہ بلوچستان نہیں بلکہ پاکستان پرحملہ تھا فتنہ الخوارج فتنہ الہنووستان درندگی کی مثال قائم کی بزدل دشمن نے معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جو ہمارے دشمنوں کا پہچان ہے

جوانان پاکستان نظر یاتی اس بزدلانہ دشت گرد ی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں دہشت گردوں کاکوئی دین اسلام نہیں ہے یہ لوگ ہندوستان اسرائیل کے اشارے پر ملک میں انتشار بدامنی پھیلانے سے گریز نہیں کرتے ہیں لیکن ہمارے بہادر فورسز اور انٹیلی جنس ادارے اپنے فرائض سے غافل نہیں ہے دہشت گردوں کو اسکا حساب دینا ہوگا پوری قوم کو اتفاق اور اتحاد کی سخت ضرورت ہے ہماری اتفاق اور اتحاد ہی دشمن عناصر کی شکست ہے

جوانان پاکستان نظر یاتی پاک فورسز کے شہیدا اور زخمیوں کے لئے دعاگو ہے فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز آرمی چیف جنرل عاصم منیر کواب بلا امتیاز پورے ملک میں فتنہ الخوارج فتنہ الہنووستان اور انکے سہولت کاروں کے خلاف سخت اپریشن کریں قوم اپکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہے۔

جوانانِ پاکستان نظریاتی بلوچستان کے صوبائی قائدین نے کوئٹہ میں ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرت...
24/05/2026

جوانانِ پاکستان نظریاتی بلوچستان کے صوبائی قائدین نے کوئٹہ میں ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت دشمنی، بزدلانہ کارروائی اور دشمن کی خارجی و تخریبی پالیسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایسے عناصر جو پاکستان کے امن، ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، وہ کبھی بھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے انشاُاللہ۔

قائدین نے کہا کہ بلوچستان ہمیشہ سے امن، محبت، روایات اور وطن سے وفاداری کی سرزمین رہی ہے، مگر دشمن قوتیں بیرونی ایجنڈے کے تحت یہاں خوف و ہراس پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ ریلوے ٹریک پر دھماکہ صرف ایک حملہ نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی، عوام کے اعتماد اور قومی یکجہتی پر حملہ ہے، جسے پوری قوم کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اور ان کے سہولت کار یہ جان لیں کہ پاکستانی قوم، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور محبِ وطن عوام ایک مضبوط دیوار کی طرح متحد کھڑے ہیں۔ بے گناہ شہریوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور ملک دشمن عناصر کو قانون کے شکنجے میں لا کر عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔

جوانانِ پاکستان نظریاتی بلوچستان کے رہنماؤں نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔ انہوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں اپنی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے انشاُاللہ۔ دشمن یاد رکھے کہ پاکستان ایک نظریہ، ایک جذبہ اور ایک ناقابلِ تسخیر قوت کا نام ہے، جسے دھماکوں، سازشوں اور بزدلانہ کارروائیوں سے کمزور نہیں کیا جا سکے

پاکستان زندہ باد🇵🇰 افواج پاکستان زندہ باد

جوانان پاکستان نظریاتی(بلوچستان)

23/05/2026

‏مودی کے زیر اقتدار بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم کے ہوشربا انکشافات

عالمی اداروں نے مودی کے اقلیتوں پر بہیمانہ مظالم کے اعدادوشمار جاری کر کے بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب کر دیا

Adresse

France � 58M
Paris
75000

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Janisar publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager