02/06/2026
بلوچستان کو تقسیم نہیں، اتحاد کی ضرورت ہے
تحریر وکالم نگار احسان خان کاکڑ
غلط تاریخی حوالے اور اشتعال انگیز بیانات کبھی بھی معاشروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے، بلکہ یہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔ بلوچستان ہمیشہ سے مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور روایات کا ایک حسین گلدستہ رہا ہے۔ یہاں بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی، سندھی اور دیگر اقوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ اختلافات بھی رہے، دشمنوں نے ان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش بھی کی، مگر وہ ہمیشہ ناکام رہے۔ کیونکہ ان تمام تر حالات کے باوجود اس دھرتی کے لوگوں کے دل کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی اصل پہچان محبت، رواداری اور بھائی چارہ ہے۔
گزشتہ دنوں بعض سیاسی بیانات اور تقاریر کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں نئی بحث نے جنم لیا۔ کچھ لوگوں نے ان بیانات کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے بلوچستان کے عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سیاسی رہنما اپنے نظریات اور منشور کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، اور یہ ان کا جمہوری حق ہے۔ بعض جماعتوں کے منشور دہائیوں سے ایک جیسے ہیں، اس لیے ان کے نعروں یا مطالبات کو اچانک پیدا ہونے والی حقیقت سمجھنا درست نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ عام بلوچ اور پشتون کیا چاہتے ہیں؟ اگر آج بلوچستان کے عوام سے پوچھا جائے تو اکثریت نفرت، تقسیم اور تنازعے کی سیاست کو مسترد کرے گی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، نوجوانوں کو روزگار حاصل ہو، ہسپتالوں میں علاج کی سہولت ہو اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوں۔ عوام کی ترجیحات بالکل واضح ہیں، لیکن بدقسمتی سے اکثر سیاسی بحثیں ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔
بلوچستان اس وقت سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ہر قومیت کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ غربت یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا شخص بلوچ ہے یا پشتون، ہزارہ ہے یا پنجابی۔ بھوک، محرومی اور بے روزگاری سب کے لیے یکساں اذیت کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدہ مکالمے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بلوچستان کی تاریخ میں بلوچ اور پشتون ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ رشتے، کاروبار، دوستی اور مشترکہ مفادات دونوں اقوام کو ایک مضبوط بندھن میں جوڑتے ہیں۔ چند سیاسی بیانات یا وقتی اختلافات اس تاریخی تعلق کو کمزور نہیں کر سکتے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اشتعال انگیزی کے بجائے برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ بلوچستان کی ترقی کا راستہ اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے، انتشار سے نہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی، سماجی اور قبائلی قیادت نوجوانوں کو نفرت کے بجائے مثبت سوچ دے، انہیں تعلیم، ہنر اور ترقی کی طرف راغب کرے، اور صوبے کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کرے۔ میں ان تمام بزرگوں، نوجوانوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو مشکل حالات میں بھی یکجہتی، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہی لوگ بلوچستان کے اصل سفیر ہیں، اور یہی وہ آوازیں ہیں جو ہمارے مشترکہ مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔
بلوچستان ہم سب کا گھر ہے۔ اس گھر کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں، سیاست کو نفرت کا ذریعہ نہ بنائیں، اور اپنے مشترکہ مفادات کو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر رکھیں۔ اتحاد، محبت اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو ایک روشن، پُرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے