09/01/2026
مجھے ڈر لگتا ہے محبت سے
محبوب سے
عادت سے
اُس اٹیچمنٹ سے
جو آہستہ آہستہ رگوں میں اُترتی ہے
اور پھر خون بن جاتی ہے
مجھے ڈر لگتا ہے وعدوں اور قسموں سے
کیونکہ میں نے دیکھا ہے
کہ الفاظ کتنی آسانی سے کہے جاتے ہیں
اور کتنی بے دردی سے ٹوٹ جاتے ہیں
وہ وعدے جو
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیے جاتے ہیں
اکثر پیٹھ موڑتے وقت یاد بھی نہیں رہتے
یہ جو محبت کے چند لمحے ہوتے ہیں نا
یہ ہتھیلی پر رکھی ریت کی طرح ہوتے ہیں
جتنی زور سے پکڑو
اتنی ہی تیزی سے پھسل جاتے ہیں
چند سانسوں کی خوشی
چند دھڑکنوں کا سرور
اور پھر
جدائی
اور جدائی کے بعد
وہ خاموشی آتی ہے
جو شور مچا مچا کر نہیں
چپ چاپ دل کو چیرتی ہے
ایسی تنہائی
جس میں کمرہ بھرا ہوتا ہے
مگر دل خالی
فون پاس ہوتا ہے
مگر کوئی آواز نہیں
یادیں جاگتی رہتی ہیں
اور انسان سو نہیں پاتا