Jo Chaly tu Jaan say Guzar Gay

Jo Chaly tu Jaan say Guzar Gay عشق واجب تھا
قضا کر لیا ہم نے

23/04/2026

ہمیشہ کی طرح آج بھی
جب میں نے اپنا
احتساب کرنا چاہا تو
مجھ پہ میرا قصور کھلا
تو صرف اتنا
کہ دکھ ہو یا سکھ ہو
خوشی ہو کہ غم
میرے دل کا ہر موسم
میرے چہرے پر
آکے ٹھہر جاتا ہے
مجھ سے
منافقت نہیں ہوتی....!!

12/04/2026

خُودی کا فلسفہ سُن کر
دُعائیں کانپ اُٹھتی ہیں

چراغِ دِل کی حِدت سے
ہوائیں کانپ اُٹھتی ہیں

سلاخیں اپنے زنداں کی
ذرا مضبوط رکھنا تُم !

کہ شاہیں پھڑپھڑائے تو
ہوائیں کانپ اُٹھتی ہیں

ہمیں مصلوب کر کے بھی
بہت مایوس ہو گے تُم

ہماری مسکراہٹ پر
سزائیں کانپ اُٹھتی ہیں ......!!!

09/01/2026

مجھے ڈر لگتا ہے محبت سے
محبوب سے
عادت سے
اُس اٹیچمنٹ سے
جو آہستہ آہستہ رگوں میں اُترتی ہے
اور پھر خون بن جاتی ہے
مجھے ڈر لگتا ہے وعدوں اور قسموں سے
کیونکہ میں نے دیکھا ہے
کہ الفاظ کتنی آسانی سے کہے جاتے ہیں
اور کتنی بے دردی سے ٹوٹ جاتے ہیں
وہ وعدے جو
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیے جاتے ہیں
اکثر پیٹھ موڑتے وقت یاد بھی نہیں رہتے
یہ جو محبت کے چند لمحے ہوتے ہیں نا
یہ ہتھیلی پر رکھی ریت کی طرح ہوتے ہیں
جتنی زور سے پکڑو
اتنی ہی تیزی سے پھسل جاتے ہیں
چند سانسوں کی خوشی
چند دھڑکنوں کا سرور
اور پھر
جدائی
اور جدائی کے بعد
وہ خاموشی آتی ہے
جو شور مچا مچا کر نہیں
چپ چاپ دل کو چیرتی ہے
ایسی تنہائی
جس میں کمرہ بھرا ہوتا ہے
مگر دل خالی
فون پاس ہوتا ہے
مگر کوئی آواز نہیں
یادیں جاگتی رہتی ہیں
اور انسان سو نہیں پاتا

19/11/2025

بعض اوقات
"دل کا موسم"
بہت عجیب ہوتا ہے ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
وہ ہر خواہش سے بے نیاز ہو جاتا ہے
نا زندگی سے جانے والوں کا دکھ
نا زندگی میں شامل ہونے والوں کی کوئی خوشی ۔۔۔
بلکہ دل چاہتا ہے کہ اس جگہ
سے کہیں بہت دور چلے جائیں
جہاں کوئی بھی ہمیں پہچاننے والا نا ملے
جہاں
اپنی ذات ہو ،
شناخت نا ہو
صرف "ذات" ہو_____!

16/11/2025

خبر نہیں ہے یہ زخم میرے رفو ہوئے ہیں کہ چِھل رہے ہیں
بچھڑ کے تم سے قدم قدم پر تمہارے ہم نام مل رہے ہیں

کسی کے جانے کا یہ خسارا کبھی بھی پورا نہ ہو سکے گا
جو لوگ دل سے نکل گئے ہیں وہی تمنائے دل رہے ہیں

اور اب ان آنکھوں کی خواب گاہیں قیام لگتی ہیں عارضی سا
یہ وہ علاقہ ہے ہم جہاں پر کئی برس مستقل رہے ہیں

ہمیں کسی کے ادھڑتے رِستے ہوئے جُنوں سے غرض ہو کیسی
ہمیں میسحا ملا ہوا ہے ہمارے گھاؤ تو سِل رہے ہیں

کسی کے لہجے میں بدگمانی کا شائبہ سا ہوا ہے کومل
جہاں پہ کھلنے تھے سبز موسم وہاں پہ اندیشے کِھل رہے ہیں

کومل جوئیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

11/10/2025

میرا لفظ لفظ تراش کر
مجھے حرف حرف تلاش کر✨
میں"الف" ہوا تو الم ہوا
ہوا "ب" تو باعث غم ہوا
جہاں پ" نے پاؤں جکڑ لئیے
وہیں ت" نے تلوے پکڑ لئیے
کہیں "ٹ" جو مجھ کو ٹکر گیا
وہیں "ث" نے مجھ کو ثمر دیا
کبھی "ج" مجھ کو جلا گیا
کبھی "چ" نے چکر چلا دیا
مگر " ح" نے حال بدل دیا
اور "خ " نے خال بدل دیا
تبھی "د" سے دل لگا لیا
اور " ڈ " سے ڈنکا بجا دیا
پھر " ذ" سے ذات کو پا لیا
اک " ر " سے رستہ بنا لیا
اک۔ " ڑ " سے بات بگڑ گئی 🥀
تب۔ " ز" سے زینت سنور گئی
اور " ژ" سے ژاژ کا دم گیا
ارے " س " سے میں سنبھل گیا
کسی "ش " نے مجھے دی شعاع
تو "ص" نے مجھے دی صبا
اور "ض " نے دیا ضابطہ
سرِشام "ط" کے طنز سے
سرِ بزم " ظ " کے ظرف نے
میرے "ع" کو دیا عزمِ نو
میرے " غ" کو کیا غرض گو
یہیں "ف" سے مل گیا فاصلہ
یہیں "ق" سے ملا قافلہ
یہیں "ک" نے کہا کچھ نہیں 💔
یہیں " گ " نے گِنا کچھ نہیں
ملا " ل " تو اس نے لڑا دیا
میرے" م" نے مجھے آ کہا
تیرا "ن " تجھ سے نراش ہے
تیرا "و " وقت کی آس ہے
کہا " ہ " نے ہاتھ کو تھام بس
کہا "ء" نے میں ہوں ءام مس
میری" ی" نے آ کے یقیں دیا
بڑی "ے" ، یہاں کی ہے سربراہ
ابھی وقت ہے تو تلاش کر
مجھے لفظ لفظ تراش کر🖤✨

13/05/2025

مسئلہ صِرف مُحبت نہیں ہوتی...!!
ضِد بھی نہیں...!!
نہ ہی حُسن...!!
نہ ذہانت...!!
نہ اَنا اور نہ ہی ایک اِنسان...!!

لاتعداد بہترین اور خُوبصورت لوگ...!!
مُتبادل کے طور پر دستیاب ہوتے ہیں...!!
اور طلبگار بھی...!!
پِھر مسئلہ ہے کیا...؟؟
کیمسٹری...!!
جو اُس اِنسان کے ساتھ محسُوس ہو چُکی ہوتی ہے...!!
بَس...!!
وہی کَمی بے چین رکھتی ہے..

04/05/2025

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﺲ ﻭﮦ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﮮ
ﻣﯿﺮﯼ ﻓﺮﺻﺘﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺸﻐﻠﮯ
ﺳﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﮮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ذﮐﺮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮭﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ
ﻭﮦ ﺳﻨﮯ ﺗﻮ ﺳﻦ ﮐﮯ ﮨﻨﺴﺎ ﮐﺮﮮ
ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ
ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﻨوﻮُﮞ ﮐﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﮨﻮ
ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ
ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﮮ۔

16/01/2025

تمہاری چپ اور ہمارا لہجہ
کبھی ملیں گے تو بات ہوگی
ہماری انکھیں تمہارا چہرہ
کبھی ملیں گے تو بات ہوگی
کہیں گے تم سے کہ دل کی باتیں
چھپا کے رکھنا بڑا گناہ ہے ،
تم سے مل کر تمہیں نہ ملنا
قسم خدا کی بڑی سزا ہے
تمہارے چہرے کے قفل نظروں سے
کھل نہ پائیں تو کیا کریں ہم
کہ روکے رکھنی ہیں دل میں انکھیں
وہیں سے اب تمکو دیکھنا ہے
تمہارے جلووں پہ سر کا جھکنا
کبھی ملیں گے تو بات ہو گی
محبتیں جب تم لکھا کرو گے
ہمارا ناموں میں نام ہو گا
کبھی جو دھڑکے گا دل تمہارا
ہمارے دل کا سلام ہو گا
کبھی جو تاروں سے دوستی ہو
تو جگنوؤں سے بھی ملتے آنا
ہمارے لفظوں سے بات بنکر
ملو گے جب تم کلام ہو گا
اداس لمحوں میں ہنس کے کہنا
کبھی ملیں گےتو بات ہو گی
تمہاری چپ اور ہمارا لہجہ
کبھی ملیں گے تو بات ہو گی ...

خلیل الرحمن قمر

25/12/2024

ملال ھے مگر اتنا ملال تھوڑی ھے
یہ آنکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ھے

بس اپنے واسطے ھی فکر مند ہیں سب لوگ
یہاں کسی کو کسی کا خیال تھوڑی ھے

پروں کو کاٹ دیا ھے اڑان سے پہلے
یہ خوف ھجر ھے شوقِ وصال تھوڑی ھے

مزا تو تب ھے کہ ھار کے بھی ہنستے رھو
ھمیشہ جیت ھی جانا کمال تھوڑی ھے

لگانی پڑتی ھے ڈبکی ابھرنے سے پہلے
غروب ھونے کا مطلب زوال تھوڑی ھے ۔۔۔

پروین شاکر ۔۔

Adresse

Ludwig-Becker-Platz 3
Nordkirchen
59394

Telefon

+4917664608435

Webseite

Benachrichtigungen

Lassen Sie sich von uns eine E-Mail senden und seien Sie der erste der Neuigkeiten und Aktionen von Jo Chaly tu Jaan say Guzar Gay erfährt. Ihre E-Mail-Adresse wird nicht für andere Zwecke verwendet und Sie können sich jederzeit abmelden.

Service Kontaktieren

Nachricht an Jo Chaly tu Jaan say Guzar Gay senden:

Teilen

Kategorie