KPK, district Swabi

KPK, district Swabi come and join me to discover the beauty of our homeland Swabi.

06/05/2026

Tomorrow is the big day. It's official. Signed at 6:00 am m. It even made it on TV. I just got so sad! Don't forget that Facebook's new rule (aka Meta) comes into effect tomorrow, allowing you to use your photos. Don't forget the deadline is today!.
According to 60 Minutes:
In case you missed it: a lawyer advised us to publish this. The violation of privacy can be punished by law NOTE: Facebook Meta is now a public entity. All members should post a note like this. If you do not publish a statement at least once, it will be understood that you authorize the use of your photos, as well as the information contained in your profile status updates.
I DECLARE THAT I DO NOT AUTHORIZE FACEBOOK OR META TO USE ANY OF MY PERSONAL DATA.
I DO NOT AUTHORIZE META TO USE MY PICTURES OR ANY PERSONAl DATA.
Hold your finger anywhere in this message and the "copy" option will appear. Click on "Copy". Then go to your page, create a new post and put your finger anywhere in the blank field. "Paste" will appear; click "Paste".

اس کا نام نیرجا بھانوٹ تھا۔وہ 1963 میں چندی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ممبئی میں پلی بڑھی، اشتہارات کے لیے ماڈلنگ کی، اور 19...
25/04/2026

اس کا نام نیرجا بھانوٹ تھا۔

وہ 1963 میں چندی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔
وہ ممبئی میں پلی بڑھی، اشتہارات کے لیے ماڈلنگ کی،
اور 1985 میں پین ایم میں بطور فلائٹ اٹینڈنٹ شامل ہوئی۔ اس کی عمر 23 سال تھی۔

ایک بار اس کی ماں نے اس سے کہا کہ اگر کبھی کوئی ہائی جیک ہو جائے تو اسے بھاگ کر خود کو بچانا چاہیے۔

نیرجا نے جواب دیا۔ ماں، مر جاؤں گی لیکن بھاگوں گی نہیں۔

5 ستمبر 1986 کو وہ پین ایم فلائٹ 73 کی سینئر پرسر تھی جو ممبئی سے براستہ کراچی نیویارک جا رہی تھی۔
طیارے میں 380 مسافر اور عملے کے 13 ارکان سوار تھے۔

کراچی اسٹاپ اوور کے دوران صبح 6 بجے چار مسلح دہشت گرد ایئرپورٹ سیکیورٹی کے لباس میں طیارے میں سوار ہوئے۔

نیرجا نے فوری طور پر انہیں پہچان لیا اور انٹرکام میں ہائی جیک کوڈ چلا دیا۔

تینوں پائلٹ اوور ہیڈ ہیچ سے گزر کر جہاز سے فرار ہو گئے۔ طیارہ گراؤنڈ کر دیا گیا۔ دہشت گرد اب اسے کہیں نہیں اڑا سکتے تھے۔

مشتعل ہائی جیکروں نے نیرجا کو ایئر لائن کے ساتھ بات چیت کا انچارج بنا دیا۔ دیگر تمام فلائٹ اٹینڈنٹ کو رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا۔ اب وہ اکیلی تھی۔

لیکن اس نے 17 گھنٹے تک 380 لوگوں کو پرسکون رکھا۔
اس نے انہیں سینڈوچ اور پانی پیش کیا۔

جب ہائی جیکروں نے اسے تمام پاسپورٹ جمع کرنے کا حکم دیا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ امریکیوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

اس نے اور اس کے عملے نے خاموشی سے امریکی پاسپورٹ کو سیٹوں کے نیچے چھپا دیا اور باقی کو کوڑے کے ڈھیر سے نیچے پھینک دیا۔ جہاز میں سوار 44 میں سے 42 امریکی زندہ بچ گئے۔

17 گھنٹے بعد دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور کیبن میں دستی بم پھینکے۔

نیرجا نے فوراً ایمرجنسی ایگزٹ ڈور کھولا حالانکہ وہ پہلے نکل سکتی تھی لیکن وہ ایک طرف ہٹ گئی اور مسافروں کو دھکیلنے لگی۔

دہشت گردوں نے اسے تین لاوارث بچوں کو فرار ہونے میں مدد کرتے ہوئے دیکھا۔
انہوں نے اسے اس کے بالوں سے پکڑا اور اسے گولی مار دی۔

وہ کراچی ائیرپورٹ ٹارمک پر چل بسیں اپنی 24ویں سالگرہ سے دو دن پہلے۔

انہیں بعد از مرگ انڈیا کا سب سے بڑا سویلین بہادری ایوارڈ اشوک چکر سے نوازا گیا۔
اسے حاصل کرنے والی پہلی خاتون اور سب سے کم عمر شخص۔

پاکستان نے انہیں تمغہ پاکستان سے نوازا اور ریاستہائے متحدہ کے محکمہ انصاف نے انہیں خصوصی جرآت کا ایوارڈ دیا۔

اس کے پاس خود کو بچانے کا ہر موقع تھا۔
لیکن اس نے ایسا نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍

ہزار سال پرانا مسلمانوں کا کمپیوٹر مسلمان خاتون سائنسدان کی عظیم ایجاد________کیا آپ یہ حیران کن حقیقت جانتے ہیں کہ (کمپ...
21/03/2026

ہزار سال پرانا مسلمانوں کا کمپیوٹر مسلمان خاتون سائنسدان کی عظیم ایجاد________

کیا آپ یہ حیران کن حقیقت جانتے ہیں کہ (کمپاس) GPS سسٹم ایک مسلمان سائنسدان بلکہ ایک مسلم خاتون سائنسدان نے ایجاد کیا ہے
اس عظیم مسلمان خاتون کا نام مریم ہے یہ دسویں صدی عیسوی یعنی ہزار سال پہلے کوشیار الجیلی کے گھر پیدا ہوئیں
انکے والد ماہر فلکیاتی سائنسدان تھے
انہوں نے سیف الدولہ کے دربار میں بطور سائنس دان 944 سے لیکر 967 تک 23 سال کام کیا
مریم نے ایک قسم کا آلہ ایجاد کیا جسے اسطرلاب کہا جاتا تھا
اسی نسبت سے مریم کا نام ہمیشہ کے لیئے مریم اسطرلابی مشہور ہوگیا
اسی اسطرلاب کے ذریعہ البیرونی نے زمین کا قطر معلوم کیا تھا
اسطرلاب ایک قسم کا آسمانی آلہ ہے اھل عرب اسے ذات الصفائح کہتے ہیں
اس کے ذریعہ سے ایک جگہ سے آسمان کا نقشہ بنایا جاتا ھے
جس کی وجہ سے اس آلے سے آسمانی مقامات کو تلاش کرنا آسان ہوتا ھے
اسے آپ اس دور کا آسمانی کمپیوٹر کہ سکتے ہیں کیونکہ اسطرلاب کے ذریعہ سے خلائی اجسام مثلا چاند,سورج اور ستاروں اور وقت کا تعین کیا جاتا ھے
اسطرلاب کے ذریعہ سے دن اور رات کے اوقات کا اندازہ لگایا جاتا ھے اور معلوم کیا جا سکتا ھے کہ رات کتنی طویل ہوگی اور دن کتنا بڑا ہوگا
اسی اسطرلاب کے ذریعہ سے وقت و جگہ کا تعین جاتا ہے اور درست سمت کا تعین کیا جاتا ھے
اور اسی اسطرلاب کے اصولوں کے مطابق آج GPS کام کرتے ہیں
اسطرلاب پرانے زمانے کے GPS تھے
آج کل GPS کی اہمیت سے کون واقف نہیں ہے
دنیا بھر کا نظام اسی کے ذریعہ چلایا جاتا ھے موبائل,سٹلائٹ وغیرہ اسی کی مرہونِ منت ہیں
سٹلائٹ لفظ بھی عربی زبان کے لفظ ساتل سے بنا ہے جس کا معنی ہے ایک دائرے میں گھومنا کے ہیں کیونکہ سٹلائٹ ایک مدار میں گھومتی ہے اسی لیئے ساتل سے سٹلائٹ بنایا گیا
اور یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم و مستند ہے کہ عربی کے بے شمار الفاظ آج تک انگریزی میں استعمال ہو رہے ہیں جن کی طویل فہرست ہے
اسطرلاب کی دو قسمیں ہیں
ایک جیب میں رکھا جاتا ہے
دوسرا دو گز لمبا ہوتا ھے
اس اسطرلاب کے ذریعہ نمازوں کے اوقات,روزے میں سحری و افطاری کے اوقات,رمضان کے کتنے روزے ہوں گے,ایامِ حج کی معلومات,قبلہ کی درست سمت کی معلومات,اور عیدوں کے دن پہلے سے متعین کیئے جا سکتے ہیں!
مزید اسطرلاب سمندری و خشکی کے راستوں کی درست نمائندگی کرتا ہے!
ایسی لا جواب ڈیوائس, ایک کمپیوٹر, ایک کمپاس, ایک GPS مسلمان آج سے ایک ہزار سال پہلے ایجاد کر کے استعمال کرتے تھے!
1990 میں ایک امریکی ماہر فلکیات نے ایک asteroid belt دریافت کی تو مریم اسطرلابی کے اعزاز میں اس کے نام پر نام رکھا گیا
2015 میں امریکی مصنفہ نیڈی اوکورافور نے مریم اسطرلابی کے اسطرلاب پر ایک ناول لکھا
اس ناول پر اس نے دنیا بھر سے ادبی انعامات جیتے اور سائنسی ادب کا سب سے بڑا انعام بھی حاصل کیا تھا!
اغیار ہمارے اسلاف کے نام پر ستاروں کہکشاؤں کے نام رکھ رہے ہیں ناول لکھ رہے ہیں اور ہمیں ان کے نام تک معلوم نہیں ہیں!
اگر دنیا میں کوئی ایسی قوم ہے جس نے اپنے آباء و اجداد کی تعلیمات بھلا دیں اور انکے نام کو خاک میں ملا دیا تو وہ مسلمان ہیں!
اتنی عظیم ایجادات کرنے والے آباء کی اولاد ہوکر دربدر مارے مارے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں!
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس امت کی آبیاری میں صرف مرد حضرات کا نہیں بلکہ خواتین کا بھی کثیر حصہ شامل ہے!
کاش ہم ان کے بارے کچھ پڑھے ہوتے۔۔

فالوؤ اور شیئر کیجئے 🧐

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح۔جس کی خاطر شیخ مجیب ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگایا کرتا تھا۔جسے جنرل ایوب خان نے فو...
20/03/2026

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح۔

جس کی خاطر شیخ مجیب ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگایا کرتا تھا۔
جسے جنرل ایوب خان نے فوجی آمریت کو مضبوط کرنے کے لیے غدار قرار دیا۔
جس کے متعلق پاکستان کے پہلے سول آمر مسٹر بھٹو نے کہا تھا
" یہ شادی کیوں نہیں کرتی؟"
اس وقت یہ سن کر ایک برطانوی صحافی رو پڑا تھا کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس عورت پر الزام لگاتی ہے جسے یہ مادر ملت، قوم کی ماں کہتی ہے۔

جنرل ایوب نے انہیں دھاندلی سے ہرایا، متحدہ پاکستان بھی ہار گیا۔
یہ ملت کے پاسبان کی بہن تھی،
ایوب سے جیت جاتی تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا۔ اس کی ہار کی سزا آج تک پاکستان بھگت رہا ہے.
قائد اعظم کی وہ عظیم بہن، جس کے بارے میں قائدا عظم نے فرمایا تھا:
" اگر فا طمہ تحریک پاکستان میں میرا ساتھ نہ دیتی تو میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا"۔
منقول

فالوؤ اور شیئر کیجئے 🧐

ایک عرب فقیر بغداد میں پہنچا جب وہ نانبائی کی دوکان کے سامنے سے گزرا تو اسے طرح طرح کے کھانوں کی بو بھلی محسوس ہوئی لیکن...
20/03/2026

ایک عرب فقیر بغداد میں پہنچا جب وہ نانبائی کی دوکان کے سامنے سے گزرا تو اسے طرح طرح کے کھانوں کی بو بھلی محسوس ہوئی لیکن اس کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے اس نے اپنے تھیلے سے خشک روٹی نکالی اور کھانے کی دیگ کی بھاپ سے نرم کر کے کھانے لگا

نانبائی چند لمحوں تک یہ منظر حیرت سے دیکھتا رہا فقیر کی روٹی ختم ہو گئی تو اس نے جانا چاہا لیکن نانبائی نے اسے روک کر اس سے پیسوں کا مطالبہ کیا ان میں توں توں میں میں ہونے لگی

اتفاق سے بہلول کا ادھر سے گزر ہوا عرب نے بہلول سے فیصلہ چاہا
بہلول نے نانبائی سے کہا “اس آدمی نے تیرا کھانا کھایا ہے یا نہیں؟”
نانبائی نے کہا “کھانا تو نہیں کھایا لیکن اس کی بھاپ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہے”

بہلول نے نانبائی سے کہا یہ درست ہے سن! اس کے بعد اپنی جیب سے سکہ نکالا ایک ایک کر کے ان سکوں کو نانبائی کو دکھاتا تھا زمین پر گراتا جاتا تھا اور پھر اٹھا لیتا تھا اور نانبائی سے کہتا تھا کہ پیسوں کی آواز پکڑے

نانبائی نے تعجب سے کہا “یہ پیسے دینے کا کونسا طریقہ ہے”؟

بہلول نے کہا “میرے فیصلے اور انصاف کے مطابق جو شخص کھانے کی خوشبو اور بھاپ بیچے اسے چائیے کہ وہ اس کے بدلے میں پیسے کی آواز وصول کرے” ۔

فالوؤ اور شیئر کیجئے 🧐

‏قوم لوط جنہوں نے ایسی برائی کو ایجاد کیا۔ جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہ کی تھی۔ ایسی بدکاری جس کی مثال تاریخ میں...
20/03/2026

‏قوم لوط جنہوں نے ایسی برائی کو ایجاد کیا۔ جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہ کی تھی۔ ایسی بدکاری جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس قوم نے ایسا کیا کام کیا تھا اور ان کا کیا انجام ھوا۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے ایک برگزیدہ نبی تھے آپ کے والد کا نام حاران تھا جو تابش کے بیٹے تھے آپ کی پیدائش عراق کے قدیم شہر "عر" میں ہوئی تھی اس شہر میں ابراہیم علیہ السلام کا مسکن تھا۔ دراصل لوط علیہ السلام کے والد حاران حضرت ابراہیم کے سگے بھائی تھے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے والد حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے چونکہ حضرت لوط علیہ السلام کے والد ان کے بچپن میں ہی انتقال کر چکے تھے لہذا حضرت لوط کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹا بنا کر پالا تھا آپ حضرت ابراہیم پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہیں

آپ حضرت ابراہیم کے زمانے میں اہل سدوم کی رہنمائی کے لئے نبوت کے منصب پر فائز ہوئے ۔ حضرت لوط کے بہت سارے معجزات ہیں آپ جس وقت بارش کے لیے دعا کرتے تھے تو آسمان بادلوں سے بھر جاتا اور خوب بارش ہوتی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام جس پتھر پر سر رکھ کر سوتے تھے اس پتھر پر آپ کے سر مبارک کا نشان بن جاتا تھا سدوم وہ علاقہ تھا جہاں لوط علیہ السلام مبعوث فرمائے گئے

سدوم کے آس پاس پانچ نہایت ہی خوبصورت شہر آباد تھے جن میں سے ہر ایک کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی یہ علاقے نہایت سرسبزو شاداب اور قدرت کی فیاضی کا حسین شاہکار تھا یہاں باغات کی کثرت تھی لہلہاتی کھتیاں یہاں کی ضروریات سے زیادہ تھیں اردن، شام اور اسرائیل کے درمیان بسا ہوا۔ یہ علاقہ نہایت ہی زرخیز تھا وہاں طرح طرح کے اناج پھل میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ آس پاس کی بستیوں کے لوگ، اپنی معاشی اور غذائی ضرورت کے لئے ان بستیوں کی طرف آتے تھے مگر یہ بات اہل سدوم کے لوگوں کو بالکل بھی پسند نہ تھی ان کے خیال میں ان کی بستیوں میں پیدا ہونے والے پھلوں اناج اور سبزیوں پر صرف ان کا ہی حق تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ دوسری بستیوں کے لوگ ان کے علاقے میں آئیں۔ ایک دن سدوم کے لوگ اس بات پر غور و فکر کر رہے تھے

کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو یہاں آنے سے آخر کیسے روکا جائے۔ کہ ایک بزرگ کی شکل میں ابلیس ان کی محفل میں آیا اور کہا اگر تم ان سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہو تو میرے کہنے پر عمل کرو۔ اس اجنبی بزرگ کی بات لوگوں نے بہت توجہ سنی۔ اور ابلیس نے کہا باقی بات میں کل بتاؤں گا۔ دوسرے دن کی ابلیس ایک خوبصورت جوان لڑکے کے بھیس میں آیا

اور انہیں اپنی عورتوں کی بجائے۔ مردوں کے ساتھ فیل بد کرنا سکھایا۔ ابلیس نے کہا کہ اگر تم ان بستیوں کے لوگوں سے نجات چاہتے ہو۔ جو تمہاری بستی میں آ جاتے ہیں تو ایسا کرو کہ جب بھی کوئی شخص تمہارے علاقے میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرو۔ اس طرح یہ لوگ اس بستی میں آنا چھوڑ دیں گے۔ اپنی نفسانی خواہشات کے لیے مردوں سے بد فعلی اس قوم کا دستور بن گیا تھا۔

یہاں بے حیائی عام ہوگئی تھی۔ حکمران، سردار، رعوسہ، ہر طبقے میں گھر گھر یہ عمل پھیل گیا تھا۔ بھری محفل میں یہ لوگ اس فحاشی کے اس کام کو کر کے خوش ہوتے تھے کوئی بھی محفل اس کام کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھی۔ خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے

کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔

بلکہ وہ بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔

‏اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔ لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔ لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔ اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، جبرائیل اور اسرافیل علیہ السلام تھے پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔

حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔ تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔

کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں، حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے

تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔ قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فیل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔

ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔

اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔ جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے

اور بصارت ظاہر ہوگئی یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔

صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔ جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔

صبح سویرے شروع ہونے والا یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بہرے مردار کہا جاتا ہے

جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔ شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی

اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے اور اس فحش عمل کو بعاعث فخر سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم جنس پرستی بالکل فطرت کے خلاف ہے جس سے انسانی معاشرہ تباہ وبرباد ہو جاتا ہے

روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے۔ حضرت ابن عباس سے روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص پر اللہ پاک کی لعنت ہو جو قوم لوط والا عمل کرے ۔
فالوؤ اور شیئر کیجئے 🧐

خاموش ہیرو: جیمز ہیریسن کی کہانی1951 میں آسٹریلیا کا ایک 14 سالہ لڑکا، جیمز ہیریسن، ہسپتال کے بستر پر آنکھ کھولتا ہے۔ اس...
29/01/2026

خاموش ہیرو: جیمز ہیریسن کی کہانی
1951 میں آسٹریلیا کا ایک 14 سالہ لڑکا، جیمز ہیریسن، ہسپتال کے بستر پر آنکھ کھولتا ہے۔ اس کے سینے پر 100 ٹانکوں کے نشان تھے۔ ڈاکٹروں نے اس کا ایک پھیپھڑا نکال دیا تھا۔ زندہ رہنے کے لیے اسے 13 یونٹ خون کی ضرورت پڑی، وہ خون جو مکمل اجنبیوں نے عطیہ کیا تھا۔ ایسے لوگ جن کے نام وہ کبھی نہیں جان پاتا۔
اس کے والد ریگ اس کے پاس بیٹھے اور ایک جملہ کہا جس نے جیمز کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا:
"تم صرف اس لیے زندہ ہو کیونکہ لوگوں نے خون عطیہ کیا۔"
اسی لمحے جیمز نے دل میں ایک وعدہ کیا۔ جیسے ہی وہ 18 سال کا ہوگا، وہ بھی خون عطیہ کرے گا۔ وہ اس قرض کو لوٹائے گا جو اس کی زندگی بچانے کے لیے ادا کیا گیا تھا۔
لیکن ایک مسئلہ تھا۔
جیمز کو سوئیوں سے شدید خوف تھا۔
1954 میں، جب وہ خون عطیہ کرنے کے قابل ہوا، وہ پھر بھی بلڈ ڈونیشن سینٹر پہنچا۔ کرسی پر بیٹھا، چھت کو دیکھا، اور نرس کو سوئی لگانے دی۔
اس نے کبھی نہیں دیکھا۔
نہ ایک بار۔
نہ 64 سال میں۔
کچھ عرصے بعد ڈاکٹروں کو احساس ہوا کہ جیمز کے خون میں کچھ غیر معمولی ہے۔ اس کے پلازما میں ایک نایاب اینٹی باڈی موجود تھی، جو غالباً اس خون کی منتقلی کے نتیجے میں بنی تھی جو اسے بچپن میں دی گئی تھی۔ یہ اینٹی باڈی ایک جان لیوا بیماری ریسس ڈیزیز سے بچوں کو بچا سکتی تھی۔
اس دریافت سے پہلے، آسٹریلیا میں ہر سال ہزاروں بچے اس بیماری کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ جب Rh-negative ماں کے پیٹ میں Rh-positive بچہ ہوتا، تو ماں کا جسم بچے کے خون پر حملہ کر دیتا۔ اس کے نتائج ہوتے تھے: اسقاطِ حمل، مردہ پیدائش، دماغی نقصان۔
جیمز کے خون میں اس مسئلے کا حل تھا۔
ڈاکٹروں نے اس سے کہا کہ وہ عام خون کے بجائے پلازما عطیہ کرے۔ اس کا مطلب تھا زیادہ وقت، تقریباً 90 منٹ۔ ہر چند ہفتوں بعد، ساری زندگی کے لیے۔
جیمز نے اپنے خوف کے بارے میں سوچا۔
پھر اس نے بچوں کے بارے میں سوچا۔
اور اس نے ہاں کہہ دی۔
64 سال تک، جیمز ہیریسن نے ایک بھی اپائنٹمنٹ نہیں چھوڑی۔
وہ خوشی میں بھی عطیہ دیتا رہا، غم میں بھی۔
وہ نوکری کے دوران بھی عطیہ دیتا رہا، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی۔
2005 میں جب اس کی بیوی باربرا کا انتقال ہوا، جن دنوں کو وہ اپنی زندگی کے "سب سے تاریک دن" کہتا تھا، تب بھی وہ عطیہ دیتا رہا۔
ہر بار، وہ چھت کو دیکھتا۔
نرسوں سے باتیں کرتا۔
دیواروں کو گھورتا۔
بس سوئی کی طرف نہ دیکھنے کے لیے۔
خوف کبھی ختم نہیں ہوا۔
لیکن وہ پھر بھی آتا رہا۔
زندگی کا ایک حسین موڑ یہ تھا کہ جب اس کی اپنی بیٹی حاملہ ہوئی، تو اسے بھی وہی دوا دی گئی جو جیمز کے خون سے تیار ہوتی تھی۔ اس کا نواسہ اسکاٹ، آج زندہ ہے، صرف اس فیصلے کی وجہ سے جو جیمز نے دہائیوں پہلے کیا تھا۔
مئی 2018 میں، 81 سال کی عمر میں، آسٹریلوی قانون کے مطابق جیمز نے اپنی آخری بار خون عطیہ کیا۔ کمرے میں مائیں موجود تھیں، اپنے صحت مند بچوں کے ساتھ۔ وہ بچے جو اس کی خاموش قربانی کا ثبوت تھے۔ آنسوؤں کے ساتھ وہ اس کا شکریہ ادا کر رہی تھیں۔
جیمز نے آخری بار کرسی پر بیٹھ کر، ایک بار پھر بازو سے نظریں ہٹائیں، اور اپنا 1,173واں عطیہ دیا۔
1967 سے اب تک، اینٹی-ڈی دوا کی 30 لاکھ سے زیادہ خوراکیں جاری کی جا چکی ہیں، جن میں جیمز کے خون کا حصہ شامل تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق، اس کی بدولت آسٹریلیا میں تقریباً 24 لاکھ بچوں کی زندگیاں بچیں۔
جب لوگ اسے ہیرو کہتے، وہ کندھے اچکا دیتا۔
"میں ایک محفوظ کمرے میں خون عطیہ کرتا ہوں،" وہ کہتا،
"وہ مجھے کافی اور کچھ کھانے کو دیتے ہیں، اور میں گھر چلا جاتا ہوں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔"
17 فروری 2025 کو، جیمز ہیریسن 88 سال کی عمر میں، نیند میں پُرسکون انداز میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔
ہم اکثر ہیروز کو فلموں میں تلاش کرتے ہیں۔ طاقت، دولت، یا شہرت والے کرداروں میں۔
لیکن کبھی کبھی، ہیرو وہ ہوتا ہے جو 64 سال تک ایک خاموش وعدہ نبھاتا ہے۔
جو خوف محسوس کرتا ہے، مگر پھر بھی صحیح کام کرتا ہے۔
آج لاکھوں لوگ زندہ ہیں، صرف اس لیے کہ ایک انسان نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کا خوف دوسروں کی زندگیوں سے کم اہم ہے۔
اب سوال یہ ہے:
آپ کون سا چھوٹا سا حوصلے کا قدم اٹھا سکتے ہیں، چاہے وہ آپ کو ڈراتا ہی کیوں نہ ہو؟
منقول
فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Kamal Gul, Liaqat Daudzai, Altaf Ahmad, Abdulghafar Mokhb...
29/01/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Kamal Gul, Liaqat Daudzai, Altaf Ahmad, Abdulghafar Mokhbet, Kashi Khan Kashi Khan, محمد عدنان دیوبندی, Farman Babar, Jan Net

ہم شارخ خان کے بے حد مشکور ہیں جس نے پٹھانوں کو عزت دار،  مہمان نواز، غیرت مند، بہادر، اور محب الوطن پوری دنیا کو دیکھای...
29/01/2026

ہم شارخ خان کے بے حد مشکور ہیں جس نے پٹھانوں کو عزت دار، مہمان نواز، غیرت مند، بہادر، اور محب الوطن پوری دنیا کو دیکھایا۔
ورنہ پاکستانی اور پنجابی میڈیا اور ہیرامنڈی فلم انڈسٹری میں پشتونوں کو ہمیشہ دہشتگرد، ہم جنس پرست، غدار، موچی اور ڈاکو دیکھائے گیے!!!🫩

فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍

26/01/2026

Saiga 9 in 30 bore (7.62*25)
Made by Nazir Ahmad in Darra Adam khil. Only for educational purposes and not for age under 18.

Address

Sharjah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KPK, district Swabi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KPK, district Swabi:

Share