11/06/2026
یہ وہ شخص ہے جو اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹرز نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا۔ اس نے آن لائن لون ایپس سے 20 ہزار قرض لیا اور اب وہ لاکھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ جینا نہیں چاہتا۔
پشاور کے ایک ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے یہ شخص خیبرپختونخواہ کے ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں 'لون ایپس سے دور رہیں۔ آج میں کم تکلیف میں ہوں لیکن میرا خاندان بہت زیادہ تکلیف میں ہے۔ برائے مہربانی اپنا اگر خیال نہیں بھی ہے تو اپنوں کا خیال رکھیں۔ ان کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلیں۔ میں نے لون ایپس 20 ہزار کا لون لیا جو اگلے ہفتے 40 ہزار پھر 80 ہزار اور یوں ہر ہفتے لون بڑھتا جا رہا ہے۔ براہ کرم دور رہیں'
آج کل موبائل چلائیں تو ہر دوسرے اشتہار میں ایک خوشنما آفر آتی ہے۔ اشتہار میں کوئی خوش شکل نوجوان ہوتا ہے۔ پہلے وہ پریشان نظر آتا ہے اور آنلائن ایپ سے لون لینے کے بعد وہ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نہیں بتاتا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کیا ہے۔
یہ کمپنیاں اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا کاروبار اُس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ پھنس جاتے ہیں۔ ایک گاہک جو پھنس گیا، وہ مہینوں بلکہ سالوں تک پیسے دیتا رہتا ہے۔ تو اشتہار پر لگایا گیا ہر روپیہ انہیں سو روپے بن کر واپس ملتا ہے۔
یہ ایک کاروباری جال ہے اور آپ اس کا شکار بننے والے ہیں۔
آخر ہم ایسا لون لینے پر آمادہ کیوں ہوتے ہیں؟ یہاں ایمانداری سے بات کریں تو یہ لالچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ پاکستان میں آج کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مہینے کے آخر میں پیسے نہیں بچتے۔ بچے کی فیس، گھر کا کرایہ، ماں کی دوائی۔۔ یہ ضرورت ہے اور پیسے نہیں ہوتے۔۔ بینک قرض نہیں دیتے، رشتہ داروں سے بار بار مانگنے میں شرم آتی ہے اور پھر یہ ایپ سامنے آتی ہے 'ہم ہیں نا۔ قرض لیں اور اپنے مسائل کا خاتمہ کریں'
انسانی دماغ فطری طور پر آج کی تکلیف سے بھاگتا ہے اور کل کے نقصان کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ جب اکاؤنٹ میں پیسے آتے ہیں تو دماغ میں خوشی کا کیمیکل خارج ہوتا ہے۔ وہی کیمیکل جو کسی نشے میں ہوتا ہے۔ آپ اس کے عادی سے ہوجاتے ہیں۔ ہر وہ شخص جس نے کبھی یہ قرض لیا، اس نے پہلے سوچا 'بس ایک ہفتے کی بات ہے۔' یہ سوچ غلط نہیں ہوتی لیکن حساب غلط ہوتا ہے۔۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سب اتفاقاً نہیں ہوتا۔ دنیا کے بڑے ماہرین نفسیات نے یہ سسٹم ڈیزائن کیا ہے۔ انسانی دماغ فوری انعام کو ترجیح دیتا ہے۔ لون ایپ فوری پیسے دیتی ہے۔ یوں مستقبل کا نقصان دماغ کو ابھی نظر نہیں آتا۔
یہ سب کس طرح ہوتا ہے؟ 20 ہزار روپے کا قرض لیں۔ سود کی شرح فرض کریں 50 فیصد فی ہفتہ ہے اور بہت سی ایپس اس سے بھی زیادہ وصول کرتی ہیں۔۔ پہلا ہفتہ 30 ہزار، دوسرا ہفتہ 45 ہزار، تیسرا ہفتہ 67 ہزار اور پھر یہ سلسلہ لاکھوں تک جاتا ہے۔۔اور اگر آپ نے ادائیگی میں ایک دن بھی تاخیر کی تو جرمانہ الگ سے دینا ہوتا ہے۔ یہ حساب کوئی نہیں بتاتا کیونکہ اگر بتا دیں تو کوئی یہ قرض نہ لے۔
آپ شاید اس حساب کے علاوہ بھی دیگر چیزوں پر توجہ نہیں دیتے۔ یاد کریں جب آپ ایپ انسٹال کر رہے تھے تو نیچے لکھا تھا:
Allow access to Contacts
Allow access to Storage and Photos
Allow access to Camera
اور آپ نے بغیر سوچے Allow دبا دیا۔بس اسی لمحے کھیل ختم ہو گیا۔ اب ان کے پاس آپ کی پوری کنٹیکٹ لسٹ ہے۔ آپ کے ابو، امی، بھائی، استاد، باس۔۔ سب کے نمبر ان کے سرور پر محفوظ ہیں۔ آپ کی گیلری میں جو تصاویر ہیں، وہ بھی ان کے پاس ہیں۔۔ اور جب آپ قرض نہیں اتار پاتے تو فون آتا ہے 'اگر کل تک پیسے نہ آئے تو آپ کے گھر والوں کو بتائیں گے۔ آپ کی تصاویر وائرل کریں گے۔' یہ بلیک میلنگ چلتی رہتی ہے۔ یہ جرم ہے لیکن یہ ہو رہا ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑا نقصان پیسوں کا نہیں ہوتا بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کسی کو بتا نہیں سکتا۔ پشاور کا یہ نوجوان اگر آج ہسپتال کے بیڈ پر ہے تو اسی وجہ سے کہ وہ کسی کو بتانا نہیں چاہتا تھا۔۔
پہلے تو کسی صورت آن لائن لون ایپس سے قرض نہ لیں۔ یہ سب سے خطرناک لون ہوتا ہے اور آپ اسے زندگی بھر واپس نہیں کر سکتے۔ اگر کر بھی لیں تو آپ کی پرائیویسی تباہ ہوگئی ہوتی ہے۔ آج ہی اپنے فون میں ایسی کوئی بھی ایپ دیکھیں تو ڈیلیٹ کر دیں اور اگر آپ پہلے سے پھنس چکے ہیں تو گھر میں کسی ایک ایسے شخص کو بتائیں جو آپ کی مخلصانہ مدد کر سکتا ہو۔ اگر آپ کو ان کمپنیز کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے تو متعلقہ اداروں کو لازمی آگاہ کریں۔
ادیب یوسفزئی