BAZM E DIL

Call Website
17/10/2026

یاجوج ماجوج پر فلمائی گئی ایک شورٹ فلم۔
کیسے دنیا میں یاجوج ماجوج آئیں گے۔ کیسے دریا نیل کا پانی پی جائیں گے۔ کیسے پوری دنیا کو تباہ کریں گے۔ اور کیسے اپنی موت مریں گے۔ یہ سب کچھ اس فلم میں دکھایا گیا ہے۔

06/10/2026

دل میں کینہ اور بغض رکھنے والا انسان کوئی موقع نہیں جانے دیتا فساد ڈالنے کا ، دل میں نفرت پھیلانے کا، بہتان لگانے کا اور خود کو اعلی ثابت کرنے کا

06/10/2026

01/10/2026

Vibe to ha 😂

30/09/2026

میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ان آنکھوں سے جو ہماری زندگیوں پر نظر رکھتی ہیں جیسے وہ ہماری تباہی کا انتظار کر رہی ہوں۔

"مصائب کو چھپانا راز چھپانے میں شامل ہے کہ انکے اظہار سے دشمن کو خوشی اور محب کو دکھ ہوتا ہے "- امام ابن الجوزی رحمه الل...
24/09/2026

"مصائب کو چھپانا راز چھپانے میں شامل ہے کہ ان
کے اظہار سے دشمن کو خوشی اور محب کو دکھ ہوتا ہے "

- امام ابن الجوزی رحمه اللّٰه

تقریباً چار ہزار سال پہلے ہڑپہ کے ایک دروازے کے نیچے اینٹوں سے ایک ایسا راستہ بنایا گیا تھا جس میں نہ کوئی انسان رہتا تھ...
23/09/2026

تقریباً چار ہزار سال پہلے ہڑپہ کے ایک دروازے کے نیچے اینٹوں سے ایک ایسا راستہ بنایا گیا تھا جس میں نہ کوئی انسان رہتا تھا، نہ سامان رکھا جاتا تھا اور نہ ہی یہ کسی خفیہ سرنگ کا حصہ تھا۔ اس کا کام اس سے کہیں زیادہ عملی تھا: شہر کے بارش کے پانی اور گندے پانی کو باہر نکالنا۔ 1993ء میں جب ہڑپہ آثارِ قدیمہ تحقیقی منصوبے (Harappa Archaeological Research Project) نے اس حصے کی کھدائی کی تو زمین کے اندر پکی اینٹوں سے بنا یہ بڑا نالہ سامنے آیا۔

تصویر میں اوپر بیٹھا شخص جو لمبا پیمائشی پیمانہ نیچے اتار رہا ہے، وہی اس ساخت کی اصل جسامت کا اندازہ دلاتا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی گھریلو نالی نہیں تھی۔ اس مقام کی تفصیلی تحقیق میں مرکزی نالے کی جسامت تقریباً 2 میٹر بلند، 1.5 میٹر چوڑی اور تقریباً 5 میٹر طویل بتائی گئی ہے۔ اسے ایک ایسے قدیم داخلی راستے کے درمیان تعمیر کیا گیا جو اس وقت تک اپنی پہلی حیثیت کھو چکا تھا۔ اس کے اوپر گلی یا راستہ موجود تھا اور پانی نیچے سے گزر کر شہر سے باہر نکل سکتا تھا۔

اس کی چھت کو دیکھنا خاص طور پر دلچسپ ہے۔ اینٹوں کو سیدھی چھت کی طرح رکھنے کے بجائے ہر اگلی تہہ کو پچھلی تہہ سے قدرے اندر نکالا گیا، یہاں تک کہ دونوں طرف کی اینٹیں اوپر آکر ایک دوسرے کے قریب ہوگئیں۔ اسے کوربل محراب (Corbelled Arch) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے سے بڑی نالی کو ڈھانپا جاسکتا تھا اور اس کے اوپر شہر کا راستہ بھی برقرار رہتا تھا۔

مزید کھدائی نے معاملہ اور دلچسپ کردیا۔ اسی علاقے میں صرف ایک نالہ نہیں ملا بلکہ مختلف ادوار میں بنائے گئے متعدد نکاسی کے راستوں کے آثار ملے۔ کچھ پرانے نظام ختم ہوئے، پھر نئے بنائے گئے؛ کہیں پکی اینٹیں استعمال ہوئیں، کہیں لکڑی کے شہتیروں کے لیے جگہ بنائی گئی اور بعد کے ایک نالے میں مٹی اور کچرا بھر جانے کے شواہد بھی ملے۔ یعنی نکاسی کا نظام ایک مرتبہ بنا کر چھوڑ نہیں دیا گیا تھا بلکہ شہر میں تبدیلی کے ساتھ اسے بدلا اور دوبارہ تعمیر بھی کیا جاتا رہا۔

ہڑپہ اور موہنجو دڑو سے ملنے والے دوسرے شواہد اس تصویر کو مزید واضح کرتے ہیں۔ گلیوں کے ساتھ نالیاں چلتی تھیں، بعض نالیاں اینٹوں یا پتھر سے ڈھکی ہوتی تھیں، گھروں اور غسل کی جگہوں سے نکلنے والا پانی نکاسی کے راستوں تک پہنچتا تھا، جبکہ بعض بڑے نالے اتنے کشادہ تھے کہ صفائی کے لیے ان کے اندر داخل ہونا ممکن تھا۔ موہنجو دڑو کے عظیم غسل خانے سے نکلنے والا ایک کوربل محراب والا نالہ بھی اتنا بڑا ہے کہ انسان اس میں چل سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تصویر میں نظر آنے والی چند پرانی اینٹیں دراصل ایک بہت بڑی شہری کہانی کا چھوٹا سا حصہ ہیں۔ ہڑپہ صرف مکانوں کا بے ترتیب مجموعہ نہیں تھا۔ یہاں گلیاں، شہر کی بیرونی دیواریں، داخلی راستے، مختلف تعمیراتی مراحل اور پانی نکالنے کے لیے زیرِ زمین یا ڈھکے ہوئے راستے موجود تھے۔ جس حصے میں یہ نالہ ملا، وہاں آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی تعمیر بار بار تبدیل اور مرمت ہوتی رہی۔

اور شاید تصویر کی سب سے دلچسپ چیز کوئی مجسمہ، زیور یا شاہی خزانہ نہ ہونا ہی ہے۔ یہ گندا پانی لے جانے والا نالہ ہے، وہ چیز جسے عام طور پر تاریخ کی کتاب کے سرورق پر جگہ نہیں ملتی۔ مگر یہی نالہ ہمیں چار ہزار سال پرانے شہر کی روزمرہ زندگی کے ایک ایسے حصے تک لے جاتا ہے جو کسی قیمتی نوادرات سے کم اہم نہیں: بارش ہوتی تھی، پانی جمع ہوتا تھا، گھروں اور آبادی سے استعمال شدہ پانی نکلتا تھا، اور اس سب کو شہر سے باہر لے جانے کے لیے باقاعدہ تعمیراتی انتظام موجود تھا۔

آج اس نالے میں پانی نہیں بہتا۔ اس کے اوپر چلنے والی قدیم گلیاں اور وہاں سے گزرنے والے لوگ بھی کب کے ختم ہوچکے ہیں۔ مگر زمین کے اندر بچ جانے والی یہ اینٹیں اب بھی اس شہر کا وہ نظام دکھا رہی ہیں جو تقریباً چار ہزار سال پہلے خاموشی سے ہڑپہ کو چلانے میں اپنا کام کرتا تھا۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

Sources:
Harappa— Drain, Harappa — Jonathan Mark Kenoyer
Harappa Archaeological Research Project — Mound E/ET Gateway Excavations
— Ancient Indus City Drains
— Mound E Gateway Reconstruction

یا الہیٰ ایسی آنکھوں کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ جو ہوس بھری نظروں سے ہمیں تکتی ہیں ۔ایسی آنکھیں جو ہمیں خوش دیکھ کر اداس ہو...
15/09/2026

یا الہیٰ ایسی آنکھوں کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ جو ہوس بھری نظروں سے ہمیں تکتی ہیں ۔
ایسی آنکھیں جو ہمیں خوش دیکھ کر اداس ہو جائیں
ایسی آنکھیں جو لالچی ہوں خود غرض ہوں
ایسی آنکھیں جو حسد بھری ہوں جلن بھری ہوں
ایسی آنکھیں جو نفرت سے ہمیں دیکھتی ہوں
ایسی آنکھیں جن میں نفاق بھرا ہو کینہ بھرا ہو
یا رب ہر قسم کی بدنظری سے محفوظ رکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

*گوجرانوالہ کا سچا واقعہ*امریکہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ جب گوجرانوالہ کے ایک قبرستان میں دو قبروں پر...
08/09/2026

*گوجرانوالہ کا سچا واقعہ*
امریکہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ جب گوجرانوالہ کے ایک قبرستان میں دو قبروں پر پہنچے تو انہیں بوسے دیتے ہوئے اور زار و قطار روتے ہوئے دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر یہ قبریں کن کی ہیں، تو انہوں نے ایک ایسی داستان سنائی جو تقسیمِ ہند کے اندھیروں میں بھی انسانیت کی روشنی بن کر سامنے آتی ہے۔

ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ کے مطابق، تقسیم کے دوران جب فسادات اپنے عروج پر تھے، تو انہی قبروں میں مدفون ایک مسلمان خاندان نے ان کے دادا دادی اور باقی فیملی کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ اس خاندان نے نہ صرف انہیں اپنے گھر میں محفوظ رکھا بلکہ ان کے کپڑے بھی گھر ہی میں سی کر انہیں دیے تا کہ کسی کو شک نا ہو۔

لیکن کچھ عرصے بعد لوگوں کو شک ہو گیا کہ اس گھر میں کسی سکھ یا ہندو خاندان کو چھپایا گیا ہے۔ ایک دن جب اس خاندان کا ایک فرد مسجد گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے کسی سکھ یا ہندو کو پناہ دی ہوئی ہے؟ اس نے جواب دیا، “نہیں، وہ میرے بھائی کی فیملی ہے۔”

اس سے کہا گیا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ۔ اس شخص نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھا اور کہا، “وہ میرا بھائی ہے۔” ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالیہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹی قسم نہیں تھی، یہ سچی قسم تھی، کیونکہ وہ واقعی میرے دادا کو اپنا بھائی سمجھتے تھے۔

آج انہی محسنوں کی قبروں پر آ کر ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اسی محبت، احسان اور انسانیت کا قرض ادا کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش تھے۔۔

"Sometimes I feel as if I am walking on a tightrope stretched over a dark, bottomless abyss, and if I were to fall, ther...
30/08/2026

"Sometimes I feel as if I am walking on a tightrope stretched over a dark, bottomless abyss, and if I were to fall, there would be no one to catch me."

Franz Kafka
"کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں کسی اندھیری، بے تہہ گہری کھائی کے اوپر بندھی ہوئی رسی پر چل رہا ہوں، اور اگر میں گر جاؤں تو مجھے پکڑنے والا کوئی نہیں ہے۔"

فرانز کافکا

Address

Dubai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BAZM E DIL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share