15/01/2019
شہادت محسن نقوی ۔۔۔۔!
15جنوری 1996ء
لاہور کی سڑک پر دہشت گردی کا نشانہ بننے والے محسن نقوی کی زندگی کا سفر 5 مئی 1947ء کو شروع ہوا۔وہ ڈیرہ غازی خان کے بلاک 45 میں سید چراغ حسین کے گھر پیدا ہوئے ۔والد نے بچے کا نام غلام عباس رکھا۔ غلام عباس نے پرائمری تعلیم اسی محلے کے قریب واقع پرائمری سکول نمبر 6 میں حاصل کی۔میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 اور ایف اے اوربی اے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے کیا۔ایم اے کے لئے وہ ڈیرہ غازی خان سے ملتان آئے اور گورنمنٹ کالج بوسن روڈ میں داخلہ لیا ۔نامور شاعر پروفیسر اسلم انصاری ان کے استاد تھے۔ غلام عباس نے آٹھویں جماعت میں شاعری کا آغاز کیا تو اپنا قلمی نام محسن نقوی رکھ لیا۔
انہوں نے ”بندِ قبا“کے نام سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا ۔ان کے دیگر شعری مجموعوں میں ”برگِ صحرا“، ”ریزہءحرف“، ”موجِ ادراک“، ”ردائے خواب“، ”عذابِ دید“، ”طلوع ِاشک“، ”رختِ شب“ ”خیمہءجاں“، ”فراتِ فکر” اور ”میرانوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی“ شامل ہیں۔ محسن نقوی محبت کے شاعر تھے۔”ردائے خواب“ کے دیباچے میں انہوں نے اپنی شاعری کا مرکزی نکتہ محبت اور امن کو قرار دیا۔ بقول محسن نقوی ”زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں جی بھر کے محبت کرنے کی مہلت بھی نہیں ملتی خدا جانے لوگ نفرت کے لئے وقت کہاں سے بچا لیتے ہیں“۔.
اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
۔۔۔۔۔۔
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
۔۔۔۔۔۔
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا ، آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
۔۔۔۔۔۔
بچھڑکے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے
۔۔۔۔۔۔
وہ جس کا نام بھی لیا پہیلیوں کی اوٹ میں
نظر پڑی تو چھپ گئی سہیلیوں کی اوٹ میں
15جنوری 1996ء کی شام محبت اور امن کا شاعر نفرت اور دہشت گردی کا نشانہ بن کر اپنے ہی ایک شعر کی عملی تصویر بن گیا
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے