11/04/2023
میں بوجوہ روزے نہیں رکھتا
میری طرح کے ہر غیر روزے دار (جس کو روزہ خور جیسی ہتک آمیز اصطلاح سے بھی واسطہ پڑتا رہتا ہے ) کو دن کے وقت بالخصوص دوران کار کھانے پینے کے بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے
ویسے تو تقریباً تین بجے سہہ پہر تک پکوڑوں اور سموسوں کے سٹال چالو ہو جاتے ہیں ، مگر میری کوشش ہوتی ہے کہ روغنی غذاوں کو نظر انداز ہی کیا جائے ۔ متبادل کے طور پر بسکٹس , کیک پیسٹریاں ، نکمو ، چپس، مشروبات یا پھل وغیرہ تو ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں مگر میں ان سے کوئ خاص رغبت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔
آج تقریباً پونے تین بجے آفس کی کھڑکی سے ایک تنّور پر روٹیاں پکتے دیکھیں تو خیال آیا کیوں نا ایک عدد کڑک روٹی کو آفس میں دستاب ٹی بیگ کی چائے کے ساتھ کھایا جائے ۔ ۔ ۔ کم از کم یہ احساس تو شکم گیر نہیں ہوگا کہ آج دوپہر کی روٹی نہیں کھائ ۔ ۔ ۔
تنّور والے سے جب روٹی طلب کی تو کہنے لگا
"روٹی نہیں ہے ! "
میں نے پوچھا "تو پھر یہ کیا ہیں جو تنور کی بھٹی میں حلقہ در حلقہ پک رہی ہیں ؟ "
بولا " یہ ایک بڑی افطاری کا آڈر ہے "
پوچھا " اگر ان میں ایک مجھے سے دے دو گے کیا فرق پڑ جائے گا ، میں کونسا سا مفت مانگ رہا ہوں "
پسنیے صاف کرتے ہوئے نسبتاً کرخت لہجے میں گویا ہوا " دیکھو بھائ ہمارا اصول ہے ، رمضان میں پانچ بجے سے پہلے کسی کو بھی روٹی نہیں دیتے !!! "
میں اس کا اشارہ بھانپتے ہوئے بولا : دیکھو یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ میں یہ روٹی کسی مریض کے لئے لے جا رہا ہوں ، یہ بھی ممکن ہے کہ گھر میں چھوٹے بچے ہوں اور یہ بھی تو بعید نہیں کہ میرا کوئ پالتو جانور ہو جو روٹی کھانے کا عادی ہو ۔ ۔ ۔
آخر تم نے کس بنیاد پر یہ طے کر لیا کہ میں روزے سے نہیں ہوں ! "
جواب نہ پا کر وہ مجھے حیرانی سے دیکھنے لگا
میں بات جاری رکھتے ہوئے بولا " دیکھو فرض کرو، اگر میں یہ کہوں کہ تم نے روزہ نہیں رکھا ہوا تو ماسوائے لٹکے ہوا منہ دکھانے کے تمہارے پاس روزے دار ہونے کہ حق میں کیا ثبوت ہو گا ؟
کیا تم اس بات سے انکار کر سکتے ہو کہ تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے اپنا روزہ ثابت کرنے کا ۔ ۔ ۔ یعنی تم کسی ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کرواو اور تمہیں لکھ کر دے کہ تم نے سحر کے بعد سے اب تک کچھ نہیں کھایا ! "
وہ کچھ سوچنے کے بعد نرمی سے گویا ہوا
" دیکھیں بھیا روزہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہوتا ۔ ۔ ۔
میں فوراً اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا " رک جاو ! اسی جملے پر رک جاو ۔ ۔ ۔ دیکھو اگر تم اسے اللہ اور بندے کا معاملہ سمجھتے تو تم نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ کسی غیر روزے دار کو روٹی سے محروم رکھ کر تم کوئ ثواب کا کام کر رہے ہو !
دوسرا یہ کہ کیا ایسے کرنے سے وہ غیر روزے دار کل سے روزہ رکھنا شروع کر دے گا ؟ اور اگر وہ اس خوف سے روزہ رکھنا شروع کر بھی دے تو اپنی عقل سے بتاو کہ کیا ایسا روزہ وہ خدا کی خوشنودی کے لئے رکھے رہا ہو گا یا کھانے پینے کی اشیا کی عدم دستیابی سے تنگ آ کر ؟
اتنی دیر میں دو اور افراد بھی اس بحث کو سن کر جمع ہو چکے تھے ۔ ۔ ۔
تنّور والے نے پہلے ان طرف التجایہ نظروں سے دیکھا مگر کسی قسم کے حمایت نہ پاتے ہوئے تنّور سے نکلی گرما گرم روٹی پورے احترام کے ساتھ میرے حوالے کر دی
تیز قدموں سے تنًور چھوڑتے وقت سوچنے لگا ، کتنا شریف اور بے ضرر انسان تھا ۔ وہ چاہتا تو جذبہ ایمانی کی کسی وحشت ناک لہر میں آ کر مجھے بھی روٹیوں کے ساتھ تنّور میں جھونک سکتا تھا ۔ ۔ ۔
مزاق برطرف ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرنے کا تصور ہی نہیں
مثلاً اگر روزے دار کو یہ حق حاصل کہ اسے روزے رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہو ، سحر و افطار کے وقت اسے کھانے پینے کے علاوہ کسی اور کام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ، اشیائے خورد و نوش بازار میں نہ صرف وافر بلکہ ارزاں نرخوں پر بھی دستیاب ہوں تو روزہ نہ رکھنے والوں کو خدا کی دی گئ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے سے کس بنیاد پر روکا جائے ؟؟؟
معلوم نہیں کب اس مملکت خدا داد ( جسے کسی نے دھونس آمیز اسلامائزیشن کے پس منظر سے مملکت ضیا داد لکھا تھا ) سے ایسے قوانین کا خاتمہ ہو گا ۔ ۔ ۔
خیر دفع کیجے اس موضوع کو !
یہ وقت رمضان کے باوجود بھی غیر روزے داروں کا نوحہ لکھنے کا نہیں ۔ ۔ ۔بلکہ سستے یا مفت آٹے کی قطاروں میں لگے اور جانوں سے ہاتھ دھوتے کمزور لوگوں کی مدد کرنے کا ہے ۔
ان مظلوموں کے لئے بچوں کی روٹی پوری کرنا موجودہ حکومت نے سابقہ حکومت سے بھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے ۔ ۔ ۔
غالباً اس کا مناسب حل یہی ہے کہ ہم میں سے ہر وہ شخص جو نیم متوسط یا اس سے اوپر کے طبقے سے تعلق رکھتا ہے ؛ کسی ایک مستحق خاندان کو کم از کم ایک بوری آٹے کی لے کر دے دے
اگر ہر مہینے یہ ذمہ داری اٹھانے کی سکت ہو تو وہ جان لے کہ اس وقت اس سے بڑی خدمت خلق کوئ اور نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔
یقین مانیے
آٹے جیسی بنیادی ضرورت کے لئے قطاروں میں لگے انسانوں کو ذلت سے دوچار ہوتا دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے دل کو مٹھی میں لے کر زور سے مٹھی بھینچ لی ہو