11/02/2026
آج اسمبلی میں شرمیلا فاروقی جس طرح قائدِ جمعیت کے خلاف زہرافشانی کر رہی تھیں، اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اپنی تاریخ اتنی جلدی کیسے بھول جاتے ہیں۔ شاید وہ کسی کے اشارے پر یہ سب کر رہی تھیں، لیکن حقیقت چھپائے نہیں چھپتی۔
شرمیلا فاروقی صاحبہ! اگر آپ کو یاد ہو تو پاکستان کی تاریخ کا یہ وہ پہلا اور بڑا کیس تھا جس میں آپ، آپ کے والد عثمان فاروقی اور آپ کی والدہ انیسہ فاروقی پر نیب نے کرپشن کے الزامات ثابت کر دیے تھے۔ یہ وہی مقدمہ تھا جس میں آپ کے خاندان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے پلی بارگین کے ذریعے نیب سے سمجھوتا کیا اور کروڑوں روپے کے اثاثے ریاست کو واپس کیے۔
تو سوچا آپ کو آئینے کا وہ رخ دکھا دوں جس میں ماضی کا چہرہ بہت بدنما دکھائی دیتا ہے۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنی تاریخ کے ان سیاہ ابواب کو ضرور پڑھ لیجیے:
گر آپ نیب کی ویب سائٹ پر جائے تو وہاں موجود Plea Bargain Details کی فائل میں سیریل نمبر 69 پر عثمان فاروقی، انیسہ فاروقی اور شرمیلا فاروقی کا نام درج ہے۔ ان کے خلاف کیس نمبر 49/2000 تھا اور پلی بارگین کی کل مالیت، بشمول مارک اپ، تقریباً 301 ملین روپے درج ہے۔
مقدمے کا پس منظر:
شرمیلا فاروقی کے والد، عثمان فاروقی 1981ء سے 1996ء تک پاکستان اسٹیل ملز میں مختلف عہدوں اور پھر بطور چیئرمین خدمات انجام دیتے رہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے کرپشن کی اور اپنی آمدنی سے زائد اثاثے بنائے۔ ان کے خلاف پاکستان اسٹیل ملز میں کمپیوٹرز کی خریداری کے دوران قومی خزانے کو تقریباً 40 ملین روپے کا نقصان پہنچانے اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ریفرنسز (50/2000 اور 52/2000) دائر کیے گئے تھے۔
عثمان فاروقی، ان کی اہلیہ انیسہ فاروقی اور بیٹی شرمیلا فاروقی نے 2001ء میں نیب کے ساتھ پلی بارگین کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت فاروقی خاندان نے تقریباً 265 ملین روپے ریاست کو واپس کیے (اگرچہ کچھ ذرائع کے مطابق ان پر 195 ملین روپے سے زائد کی خوردبرد کا الزام تھا)۔ اپریل 2001ء میں انہوں نے 39.5 ملین روپے مالیت کے نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ بھی سرنڈر کیے تھے۔ احتساب عدالت نے پلی بارگین کی منظوری دیتے ہوئے انہیں 21 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا، تاہم بعد میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں یہ مدت کم ہو کر 10 سال رہ گئی تھی۔
7 نومبر 2001ء کی ڈان اخبار اس کیس پر تفصیلی ریپورٹ ۔۔۔
کراچی کی احتساب عدالت میں پاکستان اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین عثمان فاروقی، ان کی اہلیہ اور بیٹی کے خلاف پلی بارگین کا مقدمہ منگل کے روز اس وقت حل ہو گیا جب انہوں نے ریفرنس نمبر 49/2000 میں ریاست کے حق میں 265.05062 ملین روپے سرنڈر کیے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق، سپرد کی گئی یہ رقم کرپشن کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔
اس فیصلے کے تحت ملزمان کو 10 سال کی مدت کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے سے روک دیا گیا ہے اور اسی مدت کے لیے کسی بھی بینک سے مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ عثمان فاروقی، ان کی اہلیہ اور بیٹی پر ان کی آمدنی کے جائز ذرائع سے زائد اثاثے بنانے کا الزام تھا۔ عثمان فاروقی 1981ء سے 1996ء تک پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین بننے سے پہلے اور بعد میں اپنے سرکاری عہدے کے غلط استعمال میں ملوث رہے۔
ان کے خلاف چار عدالتی ریفرنسز (3/2000، 49/2000، 50/2000 اور 52/2000) دائر تھے۔ انہیں دو ریفرنسز (50/2000 اور 52/2000) میں کرپشن کے جرم میں سات سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ 21 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا تھا۔ ملزم پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان اسٹیل ملز کے لیے کمپیوٹرز کی خریداری میں قومی خزانے کو 40 ملین روپے کا نقصان پہنچایا اور کرپٹ طریقوں سے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مالی فوائد حاصل کیے۔ ریفرنس نمبر 3/2000 میں بھی ملزم نے اپنے کیس کو نمٹانے کے لیے پلی بارگین کا راستہ اختیار کیا تھا۔
سرنڈر کیے گئے اثاثوں کی تفصیل:
موجودہ کیس میں ملزم کی جانب سے سرنڈر کی گئی رقم میں درج ذیل اثاثے شامل ہیں:
* اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس: جن کی اصل قیمت 185.80 ملین روپے تھی (جبکہ موجودہ مالیت 253.836 ملین روپے ہے)۔
* رہائشی پلاٹس: کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) میں دو پلاٹس، جن میں سے ہر ایک کی مالیت تقریباً 1.6 ملین روپے ہے۔
* زیورات: 4.67853 ملین روپے مالیت کے زیورات۔
* نقدی: دو بینکوں کے سیف ڈیپازٹ لاکرز سے 2.324 ملین روپے نقد۔
* غیر ملکی کرنسی: مڈلینڈ بینک، لندن کے اکاؤنٹ میں موجود 11,003 برطانوی پاؤنڈز (تقریباً 1.0122 ملین روپے)۔
* گھڑیاں: سونے کی 12 گھڑیاں، جن کی قیمت کا مقامی طور پر تعین نہیں کیا جا سکا۔
اس سے قبل اسی سال اپریل میں، ملزم اور ان کے اہل خانہ نے ریفرنس نمبر 3/2000 میں 39.5 ملین روپے مالیت کے نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹس بھی ریاست کے حوالے کیے تھے، جو کہ کرپشن کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔ — اے پی پی
ڈان اخبار