Kurram breaking news

Kurram breaking news Kurram breaking news pages and all people well com

(اعلانِ فوتگی)صدہ جابہ محلہ کے رہائشی ناصر، صابر کے بھتیجے اور گلاپ کے بیٹے ساہل کا آج صدہ بائی پاس روڈ پر موٹر سائیکل ح...
14/03/2026

(اعلانِ فوتگی)
صدہ جابہ محلہ کے رہائشی ناصر، صابر کے بھتیجے اور گلاپ کے بیٹے ساہل کا آج صدہ بائی پاس روڈ پر موٹر سائیکل حادثے میں انتقال ہوگیا ہے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج 15 مارچ بروز اتوار بوقت 11 بجے صدہ خان بابا قبرستان میں ادا کی جائے گی۔
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیہِ رٰاجِعُون
اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے امین

14/03/2026

Makka clock Towar

13/03/2026

یو کس بہ مونزونہ نہ کاوی ۔نو پہ وریجو او موتامو نہ خلاصیگی دا خدائے غذاب نا
Funny video ���

13/03/2026

کل Peshawar کے علاقے Gulbahar میں پشاور منگل ویلفیئر یونین کمیٹی کے زیرِ نگرانی ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر قبائلی مشر ملک منور خان منگل نے واقعے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"یہ اہلسنت کی نہ پہلی شہادت ہے اور نہ آخری، مگر ہم قبائلی اقوام کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو لوگ پشاور میں رہائش پذیر ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ یہ صرف چند گھرانوں کا تنازع نہیں۔ اس کے پیچھے منظم عناصر اور کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں زینبیون، حزب اللہ اور امام اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جیسے گروہ شامل ہیں۔ ہمارے ذرائع کے مطابق ان سرگرمیوں کی پشت پناہی بیرونی فنڈنگ سے ہو رہی ہے اور ان عناصر کا کردار علاقے میں کشیدگی اور لشکر کشی کو ہوا دینا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا:
"یہ معاملہ صرف میاں نصیر یا چند افراد کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ اہلسنت اور اہل تشیع کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جڑا ہوا ہے۔ مختلف علاقوں میں اہلسنت کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ہم حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔"
ملک منور خان منگل نے کہا کہ ماضی میں بھی Kurram District میں اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے جہاں مساجد، قرآن پاک اور گھروں کو نقصان پہنچایا گیا اور متعدد خاندان متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب پشاور میں بھی حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور بالخصوص وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال مزید خراب نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے XI Corps کے کمانڈر سے بھی مطالبہ کیا کہ Imam Colony کے حالات کا فوری جائزہ لے کر ضروری کارروائی کی جائے تاکہ کسی بڑے سانحے سے پہلے امن قائم کیا جا سکے۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو اہلسنت اقوام پاکستان بھر میں اپنے آئینی اور جمہوری حق کے تحت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

آج اسمبلی میں شرمیلا فاروقی جس طرح قائدِ جمعیت کے خلاف زہرافشانی کر رہی تھیں، اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اپنی تاریخ...
11/02/2026

آج اسمبلی میں شرمیلا فاروقی جس طرح قائدِ جمعیت کے خلاف زہرافشانی کر رہی تھیں، اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اپنی تاریخ اتنی جلدی کیسے بھول جاتے ہیں۔ شاید وہ کسی کے اشارے پر یہ سب کر رہی تھیں، لیکن حقیقت چھپائے نہیں چھپتی۔
شرمیلا فاروقی صاحبہ! اگر آپ کو یاد ہو تو پاکستان کی تاریخ کا یہ وہ پہلا اور بڑا کیس تھا جس میں آپ، آپ کے والد عثمان فاروقی اور آپ کی والدہ انیسہ فاروقی پر نیب نے کرپشن کے الزامات ثابت کر دیے تھے۔ یہ وہی مقدمہ تھا جس میں آپ کے خاندان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے پلی بارگین کے ذریعے نیب سے سمجھوتا کیا اور کروڑوں روپے کے اثاثے ریاست کو واپس کیے۔
تو سوچا آپ کو آئینے کا وہ رخ دکھا دوں جس میں ماضی کا چہرہ بہت بدنما دکھائی دیتا ہے۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنی تاریخ کے ان سیاہ ابواب کو ضرور پڑھ لیجیے:

گر آپ نیب کی ویب سائٹ پر جائے تو وہاں موجود Plea Bargain Details کی فائل میں سیریل نمبر 69 پر عثمان فاروقی، انیسہ فاروقی اور شرمیلا فاروقی کا نام درج ہے۔ ان کے خلاف کیس نمبر 49/2000 تھا اور پلی بارگین کی کل مالیت، بشمول مارک اپ، تقریباً 301 ملین روپے درج ہے۔
مقدمے کا پس منظر:
شرمیلا فاروقی کے والد، عثمان فاروقی 1981ء سے 1996ء تک پاکستان اسٹیل ملز میں مختلف عہدوں اور پھر بطور چیئرمین خدمات انجام دیتے رہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے کرپشن کی اور اپنی آمدنی سے زائد اثاثے بنائے۔ ان کے خلاف پاکستان اسٹیل ملز میں کمپیوٹرز کی خریداری کے دوران قومی خزانے کو تقریباً 40 ملین روپے کا نقصان پہنچانے اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ریفرنسز (50/2000 اور 52/2000) دائر کیے گئے تھے۔

عثمان فاروقی، ان کی اہلیہ انیسہ فاروقی اور بیٹی شرمیلا فاروقی نے 2001ء میں نیب کے ساتھ پلی بارگین کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت فاروقی خاندان نے تقریباً 265 ملین روپے ریاست کو واپس کیے (اگرچہ کچھ ذرائع کے مطابق ان پر 195 ملین روپے سے زائد کی خوردبرد کا الزام تھا)۔ اپریل 2001ء میں انہوں نے 39.5 ملین روپے مالیت کے نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ بھی سرنڈر کیے تھے۔ احتساب عدالت نے پلی بارگین کی منظوری دیتے ہوئے انہیں 21 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا، تاہم بعد میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں یہ مدت کم ہو کر 10 سال رہ گئی تھی۔
7 نومبر 2001ء کی ڈان اخبار اس کیس پر تفصیلی ریپورٹ ۔۔۔
کراچی کی احتساب عدالت میں پاکستان اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین عثمان فاروقی، ان کی اہلیہ اور بیٹی کے خلاف پلی بارگین کا مقدمہ منگل کے روز اس وقت حل ہو گیا جب انہوں نے ریفرنس نمبر 49/2000 میں ریاست کے حق میں 265.05062 ملین روپے سرنڈر کیے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق، سپرد کی گئی یہ رقم کرپشن کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔
اس فیصلے کے تحت ملزمان کو 10 سال کی مدت کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے سے روک دیا گیا ہے اور اسی مدت کے لیے کسی بھی بینک سے مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ عثمان فاروقی، ان کی اہلیہ اور بیٹی پر ان کی آمدنی کے جائز ذرائع سے زائد اثاثے بنانے کا الزام تھا۔ عثمان فاروقی 1981ء سے 1996ء تک پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین بننے سے پہلے اور بعد میں اپنے سرکاری عہدے کے غلط استعمال میں ملوث رہے۔
ان کے خلاف چار عدالتی ریفرنسز (3/2000، 49/2000، 50/2000 اور 52/2000) دائر تھے۔ انہیں دو ریفرنسز (50/2000 اور 52/2000) میں کرپشن کے جرم میں سات سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ 21 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا تھا۔ ملزم پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان اسٹیل ملز کے لیے کمپیوٹرز کی خریداری میں قومی خزانے کو 40 ملین روپے کا نقصان پہنچایا اور کرپٹ طریقوں سے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مالی فوائد حاصل کیے۔ ریفرنس نمبر 3/2000 میں بھی ملزم نے اپنے کیس کو نمٹانے کے لیے پلی بارگین کا راستہ اختیار کیا تھا۔
سرنڈر کیے گئے اثاثوں کی تفصیل:
موجودہ کیس میں ملزم کی جانب سے سرنڈر کی گئی رقم میں درج ذیل اثاثے شامل ہیں:
* اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس: جن کی اصل قیمت 185.80 ملین روپے تھی (جبکہ موجودہ مالیت 253.836 ملین روپے ہے)۔
* رہائشی پلاٹس: کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) میں دو پلاٹس، جن میں سے ہر ایک کی مالیت تقریباً 1.6 ملین روپے ہے۔
* زیورات: 4.67853 ملین روپے مالیت کے زیورات۔
* نقدی: دو بینکوں کے سیف ڈیپازٹ لاکرز سے 2.324 ملین روپے نقد۔
* غیر ملکی کرنسی: مڈلینڈ بینک، لندن کے اکاؤنٹ میں موجود 11,003 برطانوی پاؤنڈز (تقریباً 1.0122 ملین روپے)۔
* گھڑیاں: سونے کی 12 گھڑیاں، جن کی قیمت کا مقامی طور پر تعین نہیں کیا جا سکا۔
اس سے قبل اسی سال اپریل میں، ملزم اور ان کے اہل خانہ نے ریفرنس نمبر 3/2000 میں 39.5 ملین روپے مالیت کے نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹس بھی ریاست کے حوالے کیے تھے، جو کہ کرپشن کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔ — اے پی پی

ڈان اخبار

*ملک حاجی سید رحمان منگل اور اس کے ساتھ دیگر اہلسنت کے بے گناہ قیدیوں کی رہائی کی درخواست منظور کر لی گئی*
10/02/2026

*ملک حاجی سید رحمان منگل اور اس کے ساتھ دیگر اہلسنت کے بے گناہ قیدیوں کی رہائی کی درخواست منظور کر لی گئی*

10/02/2026

ضلع کرم
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر رحیم گل، جنرل کیڈر (BS-17) اور ٹائپ-سی ہسپتال سدہ میں تعینات، کو ضلع کرم (لوئر و سنٹرل) کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر رحیم گل کو تین ماہ کی مدت کے لیے یا مستقل تعیناتی ہونے تک (جو بھی پہلے ہو) یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس دوران انہیں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر (DDO) کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے، جبکہ وہ اپنی موجودہ ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہیں گے۔
محکمہ صحت کے مطابق یہ فیصلہ عوامی مفاد اور انتظامی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔ صحت کے حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈاکٹر رحیم گل اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے کی بنیاد پر ضلع کرم میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں گے
۔
۔
۔
# news updates Kurram News

09/02/2026

ضلع کرم میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق محکمہ صحت کی انکوائری رپورٹ میں انکشافIlyas Orakzai Asim Khan ゚viralvideo ゚viralシalシ

*کرم پولیس جوانوں کی چاند ماری مشقوں کا انعقاد، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے پولیس فورس کی پی...
08/02/2026

*کرم پولیس جوانوں کی چاند ماری مشقوں کا انعقاد، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے پولیس فورس کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے ڈی پی او کرم ملک حبیب خان*

تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ عرفان طارق کے احکامات پر ڈی پی او کرم ملک حبیب خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں چاند ماری بٹ پاراچنار میں کرم پولیس کے جوانوں کے لیے دو روزہ فائر پریکٹس کا انعقاد کیا گیا اس تربیتی مشقوں کا مقصد اہلکاروں کی فائرنگ کی مہارت کو مزید بہتر بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر ردِعمل کو یقینی بنانا تھا پولیس جوانوں نے پستول، کلاشنکوف، ایل ایم جی اور سنائپر رائفل سے فائرنگ پریکٹس کی، جس کے دوران اسلحہ کے محفوظ اور مؤثر استعمال کے ذریعے درست نشانہ بازی کا عملی مظاہرہ کیا گیا

اس موقع پر ڈی پی او کرم ملک حبیب خان نے کہا کہ چاند ماری مشقوں کا بنیادی مقصد پولیس فورس کی فائرنگ کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا، جدید اسلحہ کے استعمال میں مہارت پیدا کرنا اور پولیس افسران و جوانوں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات و واقعات کے پیشِ نظر ایسی منظم تربیتی سرگرمیاں ناگزیر ہیں، جن کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکنا، تازہ دم اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رکھا جا رہا ہے۔https://www.facebook.com/share/19Tdr1f2Fz/

ضلع کرم، پاراچنار:وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ جناب محمد سہیل آفریدی نے ضلع کرم کا ایک روزہ دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر صوبائی...
08/02/2026

ضلع کرم، پاراچنار:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ جناب محمد سہیل آفریدی نے ضلع کرم کا ایک روزہ دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر صوبائی وزیر برائے ریلیف جناب عاقب خان اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ جناب سید شہاب علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اس موقع پر کمشنر کوہاٹ، آر پی او کوہاٹ، ڈپٹی کمشنر کرم، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈی پی او کرم اور جملہ متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے سنٹرل کرم کے متاثرین کے کیمپ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ٹی ڈی پیز اور علاقائی مشرانوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ متاثرین نے اپنے مسائل، مشکلات اور تکالیف سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ متاثرین کو ضلع خیبر کی طرز پر متاثرین پیکج، ماہانہ امدادی پیکج، رمضان پیکج، متاثرین کی رجسٹریشن، موبائل ہسپتال وین، کیمپ میں سولر بیٹری کی فراہمی اور خشک خوراک کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی جائے، نیز سی ایل سی پی کے لیے فنڈز بھی منظور کیے جائیں اور متاثرین کی جلد از جلد باعزت واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ متاثرین کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور انہیں ضلع خیبر کی طرز پر تمام امدادی پیکجز فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے اور ان کی جلد از جلد اپنے علاقوں کو واپسی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صدہ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صدہ کو کیٹگری سی سے بی میں اپ گریڈ کرنے کا افتتاح کیا، جبکہ ایمرجنسی بلاک، مرغان روڈ (سنٹرل کرم) اور گورنمنٹ ڈگری کالج صدہ کے ریزیڈنشل بلاک کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا۔
دورے کے موقع پر کرم پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔

08/02/2026

Address

Sadda
Dubai
HORALNAZ

Telephone

+971526307500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kurram breaking news posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kurram breaking news:

Share